کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیان شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے گورنمنٹ سے ایک لاکھ روپے بطورِ قرض کے سود کے ساتھ لیے ہیں،( یعنی اس شخص نے حکومت کو سود کے ساتھ قرض واپس کرنا ہے)، کیا یہ شخص کسی اور کو یہ لاکھ روپے بغیر سود کے قرض دے سکتا ہے یا نہیں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا جواب عنایت فرمائیں۔
قرض لیے ہوئے پیسے آگے کسی کو بغیر سود دینا جائز ہے۔ مگر ابتداءً سودی قرض لینے کا معاملہ ناجائز اور حرام ہے، جس سے آئندہ کے لئے مکمل احتراز اور مذکور سودی معاملہ کو جلد از جلد ختم کرنا لازم ہے۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0