اسلامی نقطہ نظر سے اگر کوئی کمپنی کسی ملازم یا سپلائر کی واجب الادا رقم ادا نہ کرے تو اس کا حکم کیا ہے؟اگر کمپنی جان بوجھ کر یا دھوکہ دہی سے ادائیگی میں تاخیر کر رہی ہو تو کیا شریعت میں اس کے خلاف سخت اقدام کی اجازت ہے؟کیا ایسی کمپنی کے ساتھ دوبارہ کاروبار کرنا یا اس میں ملازمت کرنا شرعی لحاظ سے درست ہے؟اگر کمپنی نے کوئی معاہدہ کیا ہو اور پھر ادائیگی نہ کرے تو کیا یہ بات شرعی طور پر وعدہ خلافی کے زمرے میں آتی ہے؟اگر کوئی ملازم یا کاروباری فرد کسی کمپنی سے رقم لینے میں ناکام رہے تو کیا اس کا بدلہ لینے یا عوام میں کمپنی کے خلاف شکایت کرنا جائز ہے؟کیا ایسی کمپنی میں کام کرنا جاری رکھنا جائز ہے جو مسلسل مالی معاملات میں بے ایمانی کرتی ہو؟
مفتی صاحب ادیئگی کے حوالے سے طے پایا تھا وہ 30 دن بعد ادیئگی کریں گے۔ اب چھ ماہ گزر چکے ہیں اور وہ بل ادا نہیں کر رہے میں ،فون اور ای میل کر کے تنگ آ چکا ہوں اور لوگو کا قرض دار بھی ہوگیا ہوں۔ آپ برائے مہربانی یہ فتوی دیں کہ ان پر اس کا کیا گناہ ہو گا۔ وہ فتویٰ میں ان کو ای میل کرو ں گا شاید کہ ان کے سمجھ میں آ جائے۔
ایسی ہرکمپنی جو جان بوجھ کر یا بلا عذر، مالی ادائیگی میں تاخیر اور وعدہ خلافی کرتی ہو، اور دوسروں کو معاشی نقصان پہنچاتی ہو، اس کے ذمہ داران شریعت کی نظر میں ظالم، بد عہد اور گناہ گار ہیں ۔ ایسی کمپنی کے خلاف اخلاقی و قانونی حدود میں رہ کر سخت مؤقف اختیار کرنا جائز ہے، اور دوسروں کو اس کے نقصان سے بچانا شرعی تقاضا بھی ہے۔لہذاگر سوال میں مذکور کمپنی واقعۃً کسی شخص کا حق (مثلاً تنخواہ، مال کا عوض، سروس چارجز وغیرہ) جان بوجھ کر یا بلا عذر تاخیر سے ادا کررہی ہو، تو وہ شرعاً ظالم اور گناہگار ہے ، اس لیےمسلسل مالی خیانت کےمرتکب ادارے سے فاصلہ اختیار کرنا بہتر ہے،بلکہ دیگر لوگوں کو خبر دار کرنا (مثلاً دوسروں کو کاروباری نقصان سے بچانا) جائز بلکہ بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے ۔ ہاں، اگر ملازم خود دیانت سے کام کرتا ہے اور وہ اس کمپنی میں شرکت دار نہیں بلکہ ملازم ہے، تواگرچہ اس کی ملازمت جائز ہے، لیکن ایسی کمپنی کی حرکات سے متاثر ہو کر دین یا دیانت پر سمجھوتہ نہ کرے۔اگر کمپنی نےکسی لین دین میں معاہدہ یا وعدہ کیا تھا کہ 30 دن میں ادائیگی ہوگی، اور وہ بلا عذر وعدہ خلافی کرے، تو یہ شریعت میں منافقت کی علامت اور گناہِ کبیرہ ہے۔اگر ادائیگی میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے توکمپنی کو شرعی و اخلاقی انداز میں فتوی کی صورت میں یاد دہانی کرائی جاسکتی ہے،اور اگر ممکن ہو تو فتویٰ کے ساتھ قانونی چارہ جوئی اختیار کرنے کابھی حق حاصل ہے۔
کما قال اللہ تعالی فی التنزیل : يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ [المائدة: 1]
وقال اللہ تعالی فی التنزیل : لَّا يُحِبُّ ٱللَّهُ ٱلۡجَهۡرَ بِٱلسُّوٓءِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ إِلَّا مَن ظُلِمَۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا [النساء: 148]
و فی صحيح البخاري :عن أبي هريرة رضي الله عنه: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب وإذا اؤتمن خان وإذا وعد أخلف.»(4/ 5)
وفیه أيضا :عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مطل الغني ظلم، فإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع.(3/ 94)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح» : (وعنه) : أي عن أبي هريرة (أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: مطل الغني) : أي: تأخيره أداء الدين من وقت إلى وقت (ظلم) : فإن المطل منع أداء ما استحق أداؤه وهو حرام من المتمكن، ولو كان غنيا ولكنه ليس متمكنا جاز له التأخير إلى الإمكان»(5/ 1956)
و في حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» : [تتمة]يزاد على هذه الخمسة ستة أخرى ۔۔۔۔۔۔۔الرابعة: بيان العيب لمن أراد أن يشتري عبدا، وهو سارق أو زان فيذكره للمشتري، وكذا لو رأى المشتري يعطي البائع دراهم مغشوشة فيقول: احترز منه بكذا۔(6/ 409)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0