میں ایک مشتہر کرنے والی کمپنی میں کام کرتا ہوں، یہ بیرونی اشتہار کمپنی ہے، میری حیثیت اس کمپنی میں اعلیٰ اکاؤنٹنٹ کی ہے، یہ کمپنی سائن بورڈ بناتی ہے، اور اسی طرح کا کاروبار کرتی ہے، اس میں مختلف قسم کے سائن بورڈ بنائے جاتے ہیں، یہ کمپنی اسکرین بھی بناتی ہے، (یعنی فلم دیکھنے دیکھانے کی سہولت) کرکٹ کے اسکور بورڈ بھی بناتی ہے،اس کمپنی کے اپنے اشتہاری سائن بھی ہیں، پاکستان کے مختلف شہروں میں ، یہ سائن بورڈ بنا کے ان کمپنیوں کو دیا جاتا ہے۔ جو اپنا اشتہار اس پر لگانا چاہتی ہے، وہ اس پر اپنا بینر یا جلد لگاتے ہیں، اس میں عورت اور مرد کی تصویریں ہوتی ہے،کچھ پر نہیں بھی ہوتی ہیں، یہ ماہوار یا سالانہ کرائے پر دیتے ہیں، لیکن مستقل طور پر نہیں، کیا اس طرح کے کاروبار میں جو تنخواہ مجھے ملتی ہے وہ حلال ہے؟ کیا مجھے یہ ملازمت چھوڑ دینی چاہیئے؟
محض سائن بورڈ بنا کر کرایہ پر دینا اور اس قسم کی کمپنی میں ملازمت کرنا بھی جائز ہے، مگر سینما گھروں کے اسکرین بنانا اور جاندار کی تصاویر کے لئے بورڈ فراہم کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ حرکت ہے، جس سے احتراز چاہیے۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0