محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ٹی وی نیوز چینل کی نوکری کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں بتائیں ، میں نیوز چینل میں ’’سب ایڈیٹر‘‘ ہوں، اور ہماری جانب یہ ہے کہ ہم انٹر نیشنل نیوز وائرس (ایجنسی AP AFP) کی خبریں انٹرنیٹ سے لیکر اڈیٹ کر کے آگے بھیجتے ہیں، ہماری نوکری کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں آگاہ کریں بہت مہربانی ہوگی۔
مذکور ملازمت میں سائل کا کام اگر محض خبریں جمع کرنا ہو ،اور وہ خبریں بھی ایسی ہوں ،جن سے کسی کو ضرر لاحق نہ ہوتاہو، بلکہ معلومات سے متعلق ہوں، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے ۔
كما قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدة: 2) والله تعالى اعلم بالصواب
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0