السلام علیکم! مفتی صاحب! میں ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سٹوڈنٹ ہوں ، ایک کمپنی جوائن کی ہے ، اس میں کئی سارے کام ہیں ، ٹیکس وغیرہ کو لے کر جس میں ایک کام اکاؤنٹنگ کرنا بھی ہے کہ ہم کو کسٹمر کا کھاتہ کمپیوٹر میں بنانا ہوتا ہے، جو اس سے مہینے بھر میں خرید و فروخت کی ہوتی ہے اور جو بھی خرچے کیے ہوتے ہیں اور جو آمدنی بنائی ہوتی ہے ، اکاؤنٹنگ کا یہ کام بینک سٹیٹمنٹ سے بھی ہوتا ہے ، بینک سٹیٹمنٹ جو بینک سے نکلتا ہے، اس کو کمپیوٹر پر کھاتہ میں لکھنا ہوتا ہے ، مسئلہ یہ ہے کی بینک سٹیٹمنٹ کی شیٹ میں کچھ سٹیٹمنٹ انٹریسٹ کے بھی ہوتے ہیں، اب وہ چاہے کسی نے لون لیا ہو چاہے سیونگ اکاؤنٹ ہو جس میں آخر میں انٹریسٹ ملتا ہے کچھ فیصد ، انٹریسٹ کا سٹیٹمنٹ بینک کی بک سے اپنے کھاتے میں اتارنا ہوتا ہے ، کیا یہ جائز ہے یا نہیں، لکھنے کےحکم میں جو حدیث میں آیا ہے، اس میں داخل ہے ؟ اور اگر ایسا ہے تو اس کا حل کیا ہے ؟ کیو نکہ ایک لحاظ سے یہ ضرورت بن گیا ہے ، وہ شخص جس کا تھوڑا بھی زیادہ پیمانے پر بزنس ہے، اس کو ٹیکس وغیرہ کے لیے بنانا پڑتا ہے۔
چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی ملازمت بذاتِ خود سودی لین دین پر مشتمل نہیں، بلکہ اس کے مختلف شعبے ہیں جو شرعاً جائز ہیں۔ اس لئے جب تک وہ براہِ راست سودی معاملات (سودی معاہدات کی تیاری ، سودی لین دین کی ترویج وغیرہ)میں کسی سووی بنک یافرم سے وابستہ نہ ہو، وہ حدیث میں وارد کاتبِ ربا کی وعید کے زمرے میں داخل نہیں ہوتا،لہذاصورت مسئولہ میں سائل کے لئےمذکورملازمت کے دوران محض اکاؤنٹنگ اور ریکارڈنگ کے طور پر بینک اسٹیٹمنٹ میں موجود سودی اندراجات کو کھاتوں میں منتقل کرنےکی گنجائش ہے۔
کما فی تکملۃ فتح الملھم: حدثنا محمد بن الصباح، وزھیر بن حرب، وعثمان ابن أبی شیبۃ، قالوا: حدثنا ھشیم، أخبرنا أبوالزبیر، عن جابر قال: (لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آکل الربا، و موکلہ، وکاتبہ، وشاھدیہ، وقال ھم سواء)۔ الحدیث۔
وفیہ أیضاً: تحت (قولہ وکاتبہ) لأن کتابۃ الربا إعانۃ علیہ، ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز، فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا، کالکتابۃ أو الحساب، فذالک حرام لوجھین: ألأول إعانۃ علی المعصیۃ، والثانی أخذ الأجرۃ من مال الحرام، فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا، وأما إذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فإنہ حرام لوجہ الثانی فحسب، فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال، جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال إلخ۔ (باب لعن آکل الربا و موکلہ، ج 1، ص 619، ط:دار العلوم کراتشی)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0