السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
میں اپنی بیوی سے گیارہ سال سے شادی شدہ ہوں۔ اللہ نے ہمیں ایک خوبصورت بیٹی عطا کی ہے۔ تقریباً تین سال پہلے میری بیوی ہماری آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ امریکہ چلی گئی، یہ کہہ کر کہ میں بھی جلد ان کے پاس چلا جاؤں گا۔ لیکن جب وہ امریکہ پہنچی تو اُس نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ اب اس شادی کو جاری نہیں رکھنا چاہتی۔میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ ویزا حاصل کر سکوں تاکہ ان کے پاس جا سکوں، مگر مجھے ویزا نہیں ملا۔ میں نے ہر طرح سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ واپس آجائے، میں اب کافی مستحکم ہوں اور اپنے خاندان کی کفالت کر سکتا ہوں، اور میرے لیے بغیر خاندان کے رہنا بہت تکلیف دہ ہے۔اس سارے عرصے میں میں نے اپنی بیوی اور بیٹی کی مالی طور پر مدد جاری رکھی۔ دو ہفتے پہلے میں نے اپنی بیوی کا مہر بھی ادا کر دیا ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ: کیا میں اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہوں جب وہ میری بات نہیں مان رہی اور میری اجازت کے بغیر دوسرے ملک میں رہ رہی ہے؟اگر ہاں! تو کیا میں اسے تین طلاقیں دے سکتا ہوں، اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہ پچھلے تقریباً تین سال سے ہمارے درمیان کوئی جسمانی تعلق نہیں رہا؟
صورتِ مسئولہ میں بیوی کا اِس طرح اپنے شوہر سے الگ رہنے اور اس کے بلانے کے باوجود اس کے ہاں نہ آنا شرعاً جائز نہیں، جس کی وجہ سے وہ گنہگار ہورہی ہے، اُس پر لازم ہے کہ اپنے اِس غلط طرزِ عمل سے باز آکر شوہر سے معافی مانگے اور اپنا گھر آباد کرنے کی فکر کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کرے، تاہم ہر ممکن کوشش اور یقین دہانی کے بعد اگر بیوی جدائی پر ہی مصر ہواور کسی صورت اِس رشتہ کو برقرار رکھنا ممکن نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں شوہر اُس کو ایک طلاق دے کر اپنی زوجیت سے الگ کرسکتاہے، اور اِس صورت میں شوہر گنہگار بھی نہ ہوگا۔
کما فی الشامیۃ: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر اھ (ج3،صـــ228،ط:سعید)۔
وفی التنویر مع الدر: (طلقة) رجعية (فقط في طهر لا وطء فيه) وتركها حتى تمضي عدتها (أحسن) بالنسبة إلى البعض الآخر اھ (ج3،صـــ231،ط:سعید)۔