میں ایک غیر ملکی کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، اس کمپنی میں ملازمین کو تنخواہ کے علاوہ تین مختلف قسم کے فوائد کمپنی کی طرف سے دیے گئے ہیں، جن میں رقم جمع ہوتی رہتی ہے ،ملازمت کے ختم ہونے پر ملازم کو ادا کر دی جاتی ہے،ان فوائد میں پراویڈنٹ فنڈ (Provident Fund)، گریجویٹی (Gratuity ) اور کمپنی کے شئیرز ( Shares ) شامل ہیں،پراویڈنٹ فنڈ میں کمپنی ہر ماہ ملازم کی تنخواہ میں سے دس (۱۰) فی صد حصہ کاٹ کر ملازم کی طرف سے اور دس (۱۰) فی صد حصہ کمپنی کی طرف سے شامل کر کے ملازم کے نام سے پراویڈنٹ فنڈ میں جمع کر دیتی ہے، کمپنی اس فنڈ کی رقم کو کہیں نہ کہیں انویسٹ ( Invest ) کر کے منافع کماتی ہے ،جو ہر ماہ ملازم کے پراویڈنٹ فنڈ میں اس ملازم کے حصے کے تناسب سے شامل کر دیتی ہے، شرائط کے مطابق ملازم پراویڈنٹ فنڈ سے اپنے حصے کی جمع شدہ رقم کلی طور پر نکلوا سکتا ہے ،جو کہ واپس نہیں کرنی پڑتی ہے ،یا اپنے حصے کی جمع شدہ مکمل رقم یا اس کا کچھ حصہ عارضی طور پر بھی نکلوا سکتا ہے، جو کہ قسطوں میں واپس کرنا پڑتا ہے، جس پر کمپنی ایک خاص تناسب سے ملازم سے منافع وصول کرتی ہے، جس کو واپس فنڈ میں ڈال کر مختلف ملازمین میں ان کے حصے کے تناسب سے تقسیم کر کے ہر ملازم کے حصے میں ڈال دیتی ہے،بالکل اسی طرح کمپنی گریجویٹی ( Gratuity ) فنڈ میں بھی ایک خاص تناسب سے ہر ملازم کی مدت ملازمت اور ملازم کی تنخواہ کے تناسب سے ایک رقم ہر ملازم کے نام پر اس فنڈ میں جمع کر دیتی ہے ،کمپنی اس فنڈ کی رقم کو بھی کہیں نہ کہیں انویسٹ ( Invest ) کر کے منافع کماتی ہے، جو کہ ملازم کے گریجویٹی فنڈ میں اس ملازم کے حصے کے تناسب سے شامل کر دیتی ہے،شرائط کے مطابق ملازم گر یجو یٹی فنڈ میں موجود رقم کو کسی صورت میں بھی نہیں نکلو اسکتا ہے، بلکہ یہ رقم ملازم کو ملازمت ختم ہونے پر ہی ملتی ہے، اسی طرح کمپنی اپنے شیئرز ( Shares) بھی اپنے ملازمین کو دیتی ہے، جس کا طریقہ اس طرح سے ہے، فرض کریں کمپنی پچاس ہزار روپے (۵۰،۰۰۰) کے عوض کمپنی کے شیئرز (Shares ) ملازم کو دیتی ہے جبکہ اتنی ہی رقم کے شیئرز (Shares ) کمپنی اپنی طرف سے ملازم کو دیتی ہے،یہ ایک طرح سے انویسٹمنٹ ( Investment ) ہو جاتی ہے ،جو کہ اسٹاک مارکیٹ میں اس کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے جمع شدہ رقم کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ ملازم عرصہ تین (۳) سال تک ان شیئر ز کو بیچ نہیں سکتا ہے ۔ تین (۳) سال کے بعد ملازم کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ ان شیئر ز کو بیچ دے ،اور حاصل ہونے والی رقم کو اپنے استعمال میں لے آئے ، اوپر بیان کردہ تفصیل کے حساب سے مجھے درجِ ذیل سوالات کے جوابات شریعت کی روشنی میں عطا کیے جائیں۔
ا:کیا پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کے حصے اور کمپنی کے حصے کی رقم پر ملنے والا منافع سود کہلائے گا ؟ کیا یہ منافع لینا جائز ہے ؟
۲:کیا گر یجو یٹی فنڈ کی رقم پر ملنے والا منافع سود کہلائے گا ؟ کیا یہ منافع لینا جائز ہے ؟
۳ :کیا پراویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی فنڈ اور کمپنی کے شیئرز کی رقم پر زکوۃ ادا کرنی ہو گی ؟ اگر ہاں تو کس طرح سے حساب لگانا ہو گا ؟
جب پراویڈنٹ فنڈ کی یہ رقم کمپنی کے ضابطہ میں لازما کاٹی جاتی ہے ،تو یہ جبری اسکیم ہے، اور اس صورت میں ملازم کے لئے ان تینوں قسموں کی رقم اپنے تصرف میں لانے کی اجازت ہے، جبکہ دورانِ ملازمت اس فنڈ سے ایسا قرض لینا جو واپس اضافے کے ساتھ لوٹانا پڑے ،در حقیقت قرض نہیں، بلکہ اپنی ہی رقم نکلوانا ہے جو جائز ہے، مگر کمپنی کا اس پر اضافی رقم وصول کر کے دیگر لوگوں پر بانٹنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
اسی طرح گریجویٹی فنڈ سے ملنے والی رقم کا اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص پہلے سے صاحبِ نصاب نہ ہو تو ان مدات سے مقدارِ نصاب کے برابر یا اس سے زائد رقم ملنے کی صورت میں پورا قمری ایک سال گزرنے کے بعد اس کی زکوٰۃ دینا لازم ہے ۔ ورنہ دیگر اموالِ زکویہ کے ساتھ شامل کرنا چاہیئے ۔
جبکہ کمپنی کے شیئرز اگر کیپیٹل گین کے ارادے سے لیتے ہوں تو اس کی پوری مالیت پر زکوٰۃ لازم ہے اور اگر سالانہ منافع حاصل کرنا مقصود ہو تو ایسی صورت میں زکوۃ اس شیئرز کی مارکیٹ قیمت کے اس حصے پر واجب ہوگی جو قابل زکوۃ اثاثوں کے مقابلے میں ہوگی۔ ( از ما خود فقہی مقالات (۱/100) ۔
كما قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ (النساء: 29)۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال اھ (5/ 3698)۔
وفي البحر الرائق: قوله (بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة اھ (7/ 300)۔
وفي بدائع الصنائع: وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء (إلى قوله) ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض (2/ 10)۔
وفي الفتاوى الهندية: ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك اھ (1/ 175)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0