1:اسلامک بینکنگ کو مدِّنظر رکھتے ہوئے میزان بینک میں PLS سیونگ اکاؤنٹ کھلوایا ہے، جائز ہے یا بند کر دیا جائے؟ (میزان بینک اسلامی بینکاری کرتا ہے ) ۔
2: پرائز بانڈز پر نکلنے والی انعامی رقم کی شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟ پرائز بانڈز رکھوں یا ختم کر دوں؟
3: میں کریڈٹ کارڈز احتیاط کی حد میں رہتے ہوئے استعمال کرتا ہوں ،یعنی اپنا بل مقرّرہ وقت کے اندر ادا کرتا ہوں، تا کہ سود کی نوبت نہ آئے، اور زیادہ تر بل سے زیادہ ادا کرتا ہوں ،تاکہ میرا بینک کی طرف رہے میرے اوپر نہ چڑھے،ہاں اکثر جگہوں پر کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہو ئےتو 10 فیصد سروس چارجز کے نام پر لگائی جاتی ہے ،مزید میرا لازمی استعمال میرے یوٹلیٹی بلز (بجلی، گیس کے بل) ہیں ،جو ہر ماہ آٹومیٹک پے ہو جاتے ہیں ،مجھے جانا نہیں پڑتا ۔ بِل پیمنٹ پر 30 فیصد سروس چارجز اور 30 روپے پر 16 فیصد ایکسٹرا ڈیوٹی ملا کر 34.80 سروس چارجز لگتے ہیں، اس طرح کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہوگا ؟
4:میں نے EFU سے انشورنس پالیسی لی ہوئی تھی ،جو یہ سوچ کر ختم کرا دی کہ اسلا می پالیسی لونگا ، EFU نے آفر کی کہ ہم نے ’’اعتماد‘‘ اور ’’اثاثہ‘‘ کے نام سے اسلامی پالیسی شروع کی ہے ،اور اس کو مکمل طور پر تکافل یا جو بھی اسلامی طریقہ ہے، اس کی روشنی میں بنائی گئی ہے، اور اس کے لئے مفتی تقی عثمانی صاحب کی جامعہ منصوبہ بندی کومد نظر رکھا ہے ، حالا نکہ مفتی تقی عثمانی ان کے رول پر نہیں تھے، مگر وہ ایک پینل بنا رہے تھے EFU اسلامی انشورنس کے لئے ،فی الحال ان کا کوئی شریعہ بورڈ نہیں ہے، بہر حال میں نے 3 سال قبل ان سے پرانی پالیسی ختم کر کے اسلامی پالیسی لے لی تھی ،کیا یہ جائز ہے یا ختم کر دوں ؟
5:اگر ختم کرنی ہے ،تو کیا فوراً ختم کردوں ،یا دو سال مزید چلا لوں نقصان سے بچنے کے لئے ؟ فتویٰ پر اللہ کی رضا کے لئے عمل کیا جائیگا (انشاء اللہ ) ۔جزاک اللہ
1:واضح ہو کہ ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک اور بینک اسلامی کے اکثر معاملات شرعی ایڈوائزر کی نگرانی اور اصولِ شرعیہ کے موافق ہوتے ہیں، اس لئے ان دونوں بینکوں کے ذریعہ سرمایہ کاری کرنے اور سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت بھی دیجاتی ہے۔
2:واضح ہو کہ پرائز بانڈ اسکیم کے تحت قرعہ اندازی کی صورت میں جو انعام ملتا ہے، وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے، جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز رکھنے والوں سے مشروط ہے ،اور یہ سود اور جوئے کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اس قسم کی اسکیموں میں حصہ لینا اور انعام وصول کرنا ہر دو امور نا جائز ہیں، جن سے احتراز لازم ہے۔
3:اگر چہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے موافق کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے کی گنجائش ہے، مذکورہ اضافی چارجز سود کے حکم میں بھی نہیں، مگر سائل کو چاہیئے کہ بجائے کریڈٹ کارڈ کے ڈیبٹ اور اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال کیا کرے ۔
4:ای ایف یو کے زیرِ نگرانی ’’اعتماد اور اثاثہ ‘‘ کے نام سے اسلامی پالیسیاں بھی ربا و قمار اور غرر پر مشتمل ہیں، اس لئے ان میں حصہ لینے سے بھی احتراز لازم ہے ،اور جو کسی نے لے لی ہو، اسے فوری طور پر ختم کر کے اپنی دی ہوئی رقم واپس لے لے، پھر اگر اس قسم کی پالیسی لینا ہی مقصود ہو تو پاک قطر فیملی تکافل کمپنی میں پالیسی لے لے ،یہ شرعی ایڈوائزر کی نگرانی میں وقف اور باہمی تعاون کے طریقے پر مشتمل ہے جو شرعاً بھی جائز اور حلال ہے۔
کمافي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)۔
وفي مشكاة المصابيح:وعن النعمان بن بشير قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الحلال بين والحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهاب استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه" اھ (2/ 124)۔