کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
۱:ایک آدمی اپنی رقم بطورِ حفاظت بینک میں رکھنا چاہتا ہے، اور منافع نہیں لینا چاہتا تو اس پر بینک والے سودی کاروبار کرتے ہیں، کیا اس کا بینک میں پیسے رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
۲: ایک آدمی نے دوسرے پر دس بوری گندم سفید والی فروخت کی اور مشتری نے قبضہ کر لیا بعد میں بائع نے واپسی کا مطالبہ کیا تو مشتری نے دینے سے انکار کر دیا، بعد میں پانچ بوری کی قیمت ادا کی ،اور پانچ کے بدلے میں سرخ گندم دیدی تو ایسا کرنا کیسا ہے؟
۳:رمضان کے مہینے میں عورت کو ایامِ حیض شروع ہو گئے، تو اس کے لئے تشبہ بالصائمین ہونا چاہئے تھا، لیکن اس نے اپنے خیال کے مطابق روزہ ختم ہونے کی وجہ سے کھانا کھایا۔
نیز یہ بھی بتائیں کہ ایک عورت نے قصداً کھانا کھایا یا اپنے اوپر جماع کی قدرت دیدی ،بعد میں حیض یا نفاس شروع ہو گیا ،تو اس صورت میں دونوں عورتوں پر کفارہ لازم آئےگا یا صرف قضاء؟
۱: دوسری کوئی صورت نہ ہونے کی بناء پر بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ میں بطورِ حفاظت رقم جمع کروانا جائز اور درست ہے، اور اس پر سود بھی نہیں لگتا۔
۲: صورتِ مسئولہ میں مشتری نے پانچ بوری کی جو قیمت ادا کی ہے، وہ شرعاً درست ہو چکی ہے، اور باقی پانچ بوری کی قیمت اس کے ذمہ بطورِ قرض واجب الادا ہے، لہٰذا مذکور بائع یعنی فروخت کرنے والا اگر اپنے قرض کے بدلے اس سے سرخ گندم لینے پر رضامند ہو جائے ،تو شرعاً یہ بھی جائز اور درست ہے۔
۳، ۴: اس کے لئے تشبہ بالصائمین جائز ہی نہیں تھا، بلکہ اس کے لئے کھانا پینا وغیرہ بلاشبہ جائز اور درست تھا، لہٰذا اس صورت میں کفارہ کا تصور ہی نہیں ہو سکتا ،اور دوسری صورت میں عمداً کی بنا پر کفارہ واجب ہونا چاہیئے تھا، مگر مُسقِط کفارہ یعنی حیض آجانے کی وجہ سے اس کا وجوب بھی ساقط ہو چکا ہے، لہٰذا اس صورت میں بھی کفارہ واجب نہیں، بلکہ قضاء ہی واجب ہوگی۔
ففي الدر المختار: (قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن اھ (4/ 506)۔
وفي حاشية ابن عابدين: والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم العقوق اھ (6/ 151)۔
ففي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: "وعلى حائض ونفساء طهرتا" وأما في حالة تحقق الحيض والنفاس فيحرم الإمساك لأن الصوم منهما حرام والتشبه بالحرام حرام اھ (4/ 171)۔
وفي الدر المختار: ثم إنما يكفر إن نوى ليلا، ولم يكن مكرها ولم يطرأ مسقط كمرض وحيض اھ (2/ 413)۔
وفي الفتاوى الهندية: ولو أفطرت المرأة متعمدة ثم حاضت أو مرضت يومها ذلك قضت ولا كفارة عليها اھ (1/ 206)۔