کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل صورت کے بارے میں کہ مسمیٰ زید، بکر کو 100 ڈالر جن کا موجودہ ریٹ روپوں میں 85 ہے، اس شرط کے ساتھ ایک سال کی مدت کے لئے دیتا ہے کہ ایک سال بعد بکر اس کو 120 روپے پاکستانی کے حساب سے ادا کرےگا اور 100 ڈالر بکر کو دید یتا ہے۔ کیا مذکور صورت شرعاً جائز ہے ؟
جی ہاں! اس طرح موجودہ قیمت کے مقابلہ زیادہ قیمت کے عوض دو مختلف ممالک کی کرنسیوں کو بیچنا اور پھر مقررہ وقت پر اس کی طے شدہ قیمت وصول کرنا جائز اور درست ہے ۔
كما في تكملة فتح الملهم: وأما العملة الأجنبية من الأوراق فھی جنس آخر فيجوز مبادلتها بالتفاضل فيجوز بيع ثلاث ربيات پاکستانیه بريال واحد سعودی اھ (۱/ ۵۹۰) ۔
وفي بحوث: ولا خلاف في جواز التفاضل عند اختلاف الجنسين وليس للفضل الجائز حد مقدر شرعا اگ (۱/ ۱۶۶)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0