السلام علیکم !میرا نام سمیرہ بی بی ہے، میری شادی کو سات سال ہو گئے ہیں، میرے شوہرنےکبھی ہماری کوئی ذمہ داری نہیں اٹھائی اور نہ ہی کوئی حق پورا کیا میری دو بیٹیاں ہیں ،اس نے کبھی بھی بچوں کی پیدائش سے لے کر آج تک کبھی کوئی خرچہ نہیں اٹھایا اور تین سال سے وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا اور کوئی فون کوئی رابطہ نہیں رکھا، نہ ہی کوئی خرچہ کبھی بھیجا ،میں نے عدالت سے بھی خلع لی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ،اور جب فتوی لیا تو پتہ چلا کہ اس سے طلاق نہیں ہوئی، اس کے بعد اسے ڈھونڈا اور بولا کہ طلاق کے پیپر پر سائن کرو،پھرسائن کروایا اور انگوٹھا بھی لگوایا ،مجھے آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ میری طلاق ہو گئی ہے یا نہیں ؟اور میری عدت کتنا عرصہ بنتی ہے کیونکہ میرا گھر کرایہ کا ہے اور مجھے گھر کا میرے بچوں کا خرچہ خود اٹھانا ہوتا ہے، میں خود کام کر کے گھر چلاتی ہوں، اب مجھے بتائیے کہ میری عدت کتنی بنتی ہے اور اس سے طلاق ہوئی ہے کہ نہیں ؟میرے شوہر نے منہ سے طلاق نہیں دی مگر طلاق نامہ پر سائن اور انگوٹھا دونوں کیا ہے ،میرا شوہر شادی سے پہلے کا نشہ کرتا ہے ٹیکے لگاتا ہے اس نشہ کی وجہ سے اس نے ہماری کبھی کوئی ذمہ داری پوری نہیں کی ہے۔
تین طلاقوں پر مشتمل منسلک طلاق نامہ پر اگر سائلہ کے شوہر نے بلاکسی جبر و اکراہ کے اپنی مرضی سے دستخط کیے ہوں، تو اس سے اس کی بیوی(سائلہ) پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے وقت سے سائلہ کی عدت شروع ہو چکی ہے، چنانچہ اس کے بعد جب تین ماہواریاں پوری ہونگی ،تو سائلہ کی عدت مکمل ہو جائیگی جس کے بعد سائلہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔
کما فی رد المحتار: تحت (قولہ طلقت بوصول الکتابۃ) ای الیھا (الی قولہ)ولو استکتب من آخر کتابا بطلاقھا وقرائہ علی الزوج وختمہ وعنونہ وبعث بہ الیھا فاتاھا وقع الخ(3 /246)۔
و فی بدائع الصنائع: واما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک وزوال المحلیۃ ایضا ، حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر اھ( 3 /187)۔
وفی الھندیۃ: إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج اھ(1/ 526)۔