میں دانش ذکی نےاپنی بیوی کو پیپر کے ذریعے ایک طلاق دی ہے، اور اس کی عدت مکمل ہوچکی ہے، اب ہم دونوں دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں، کیا شریعت ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے؟
پیپر جو ایک طلاق کے ہیں اس کے چار صفحے ہیں اور ہر صفحہ پر میں نے دستخط کیے ہیں، اب ایک طلاق ہوگی یا تین ہوں گی؟
نوٹ: سائل نے مزید وضاحت دی کہ یونین کونسل کے نام لکھی ہوئی تحریر میں سابقہ طلاق نامہ میں تحریر کردہ طلاق مراد ہے جو قانونی کاروائی کی تکمیل کے لئے لکھی گئی تھی اور میں نے اس پر دستخط کیے تھے۔
سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابقِ اصل ہو تو اس مین درج تحریر کے مطابق سائل نے اپنی بیوی کو فقط ایک طلاق دی ہے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، جبکہ یونین کونسل کے نام لکھی ہوئی تحریر میں اگر سائل نے واقعۃً مستقل طلاق کی نیت سے یہ الفاظ تحریر نہ کیے ہوں بلکہ طلاق نامہ میں درج طلاق کا حوالہ دے کر قانونی کاروائی کی تکمیل کے لئے یہ تحریر لکھ کر اس پر دستخط کیے ہوں تو اس سے سائل کی بیوی پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم سائل کے بقول طلاقِ رجعی کے بعد رجوع کیے بغیر اس کی عدت مکمل ہوچکی ہے اس لئے عدت گزرنے سے وہ طلاقِ بائن بن چکی ہے، دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہوچکا ہے، چنانچہ اب اگر سائل اور اس کی مطلقہ بیوی دوبارہ ایک ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں تو اس کے لئے باہمی رضامندی سے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب وقبول کرکے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، البتہ تجدید نکاح کے بعد سائل کے پاس آئندہ کے لئے فقط دوطلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کی ضرورت ہے۔
کما فی رد المحتار تحت : ( قولہ طلقت بوصول الکتابۃ ) أی الیھا ( الی قولہ ) ولو استکتب من آخر کتاباً بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ الیھا فأتاہ و قع الخ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 246 ، ط : سعید )۔
و فی الدرالمختار: وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب الخ ( باب الرجعۃ ، ج 3 ، ص 409 ، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة(کتاب الطلاق،ج1،ص472،ط:ماجدیہ)۔