السلامُ علیکم ، حضرت جی ! ایک مسئلہ پوچھنا ہے، ایک اہل سنت عورت نے اہل تشیع لڑکے سے پسند کی شادی کی تھی، لیکن وہ عورت اپنے عقیدے پر قائم تھی۔اب وہ فوت ہوئی تو اسکے سسرال والوں نے اس کا شیعہ والا جنازہ پڑھا، پھر اس عورت کے میکے والے اس کو اپنے علاقے لے آئے اور یہاں اہل سنت والا جنازہ پڑھایا۔تو کیا اسطرح کرنا ٹھیک ہے؟اب اس کا کونسا جنازہ ہوا اس بارے رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں مذکور مرحومہ لڑکی اگر وفات تک اہل سنت والجماعت کے عقائد حقہ پر کار بند رہی ہو اور انہوں نے اہل تشیع کے عقائد اختیار نہ کئے ہوں تو اسکے انتقال کے بعد اولیاء کی اجازت کے بغیر شیعہ امام کے جنازہ پڑھانے سے کوئی فرق نہیں پڑا، بلکہ بعد میں جب اہل سنت والجماعت کے عالم نے اولیاء کی معیت میں دوبارہ جنازہ ادا کر لیا ہے تو شرعاً بھی وہ درست ادا ہو چکا ہے، بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کمافی الہندیۃ: ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء أخر بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا، كذا في الجوهرة النيرة، فإن صلى غير الولي أو السلطان أعاد الولي إن شاء، كذا في الهداية اھ (الفصل الخامس في الصلاة على الميت، ج 1، ص 164، ط؛ ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار:( فإن صلى غيره) أي الولي (ممن ليس له حق التقديم) على الولي (ولم يتابعه) الولي (أعاد الولي) ولو على قبره إن شاء لأجل حقه لا لإسقاط الفرض؛ ولذا قلنا: ليس لمن صلى عليها أن يعيد مع الولي لأن تكرارها غير مشروع اھ (باب صلاۃ الجنازہ، ج 2، ص 223-224، ط: سعید)۔