السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں آج کل ڈاکہ مارنا ایک فن کی صورت اختیار کرگیا ہےجو کہ نوجوانوں کی بے روزگاری کی وجہ سے ہے۔مثال کے طور پر کوئی فرد موبائل یا بائیک یا دوکان لوٹ کر یا گھر میں ڈاکہ ڈال کر فرار ہوتا ہے اور پولیس یا مالک کی فائرنگ سے ہلاک ہوجاتا ہے تو کیا اس کی نماز جنازہ ہوگی؟یا باغی شمار ہوگا۔
ڈاکہ کسی بھی غرض غرض سے ڈالا جائے بہر حال ناجائز اور حرام ہے ، اور اگر ایسا شخص اس قسم کے کسی حادثے میں ہلاک ہو جائے تو تنبیہا اس پر نماز جنارہ پڑہنے سے خواص اور مقتداء لوگوں کو چاہیے کہ احتراز کریں ۔
في الدر المختار: وهي (الجنازة ) فرض على كل مسلم مات خلا أربعه بغاة وقطاع الطريق فلا يغسلوا ولا يصلى عليهم إذا قتلوا في الحرب ولو بعده صلى عليھم لأنه حد أو قصاص وكذا أهل عصبة ومكابر في مصر ليلا بسلاح وخناق غير مرة - ( ٢/٢١٠)