کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام! اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک سرکاری کمپنی میں کام کرتا ہوں، ہماری ڈیوٹی ٹائم صبح 8 سے شام 5 بجے تک ہے، 5 بجے کے بعد اکثر ہمارا اوور ٹائم ہوتا ہے، صبح 8 بجے سے ہم (13) پیس بناتے ہیں، وہ 13 پیس ہم دو یا ڈھائی بجے تک بنا لیتے ہیں، اسی طرح اکثر ہمیں صبح سے 20 پیس دیے جاتے ہیں، اور وہ بیس پیس ہمیں رات 8 بجے تک بینانا ہوتے ہیں ، 4 گھنٹے اوور ٹائم دیا جاتا ہےیعنی اضافی پیسہ تنخواہ میں ملتے ہیں ،وه 20 پیس بھی ہم 3 یا 4 بجے تک بنا لیتے ہیں اور کام ختم ہو جاتا ہے اور ہم میں سے کچھ ساتھی گھر چلے جاتے ہیں اور رات 8 بجے واپس کمپنی آکرکارڈ آوٹ کرتے ہیں، اب پوچھنا یہ تھاکہ
1- کام ختم کر کے گھر جا کے واپس 8 بجے حاضری کارڈ آوٹ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
2- 20پیس 2 بجے سے ہے پہلے کام ختم کرکے رات 8 بجے تک کمپنی میں رہ کر اوور ٹائم لینا درست ہے یا نہیں ؟
3- اسی طرح ہفتہ اور اتوار ہماری جو چھٹھی ہوتی ہے ، اکثر ہمیں ہفتہ اور اتوار کو کام کے لئے بلاتے ہیں ان دو دن کا بھی ہمیں اوور ٹائم ملتا ہے یعنی اضافی پیسے تنخواہ میں ملتے ہیں، ہفتہ اور اتوار ان دونوں دن کا کام ہم ہفتہ کو ہی ختم کر دیتے ہیں اور اتوار کو ہم صرف ان آوٹ کرتے ہیں یعنی صبح کی 8 بجے ہم حاضری کارڈ ان کر کے گھر چلے جاتے ہیں اور شام کو آوٹ کرتے ہیں۔
ان تینوں مسائل کے کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں اور ان پیسوں سے قربانی کرنا کیسا ہیں ؟ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ سائل اور اس کے ساتھ مذکور کمپنی میں کام کرنے والے دیگر ملازمین کی ڈیوٹی کا وقت اگر مقرر ہو (جیساکہ سوال میں مذکور ہے) تو ایسی صورت میں ان کی حیثیت شرعاً اجیر خاص کی ہے، اور اجیر خاص ڈیوٹی کے مقررہ وقت میں حاضر ہونے سے شرعاً اجرت کا مستحق بنتا ہے، اگر کوئی شخص کمپنی ذمہ داران کے علم میں لائے بغیر غیر حاضر رہے تو غیر حاضری کے بقدر وہ اجرت کا مستحق نہیں بنتا، لہذا سائل اور اس کے ساتھ مذکور کمپنی میں کام کرنے والے دیگر ملازمین کو اگر مطلوبہ کام مکمل ہونے کے بعد کمپنی کی انتظامیہ کی طرف سے مقررہ وقت سے پہلے جانے کی جازت نہ ہو یا "اور ٹائم " کی صورت میں "اتوار" کا کام ہفتے کے دن مکمل کرنے کے بعد اتوار کے دن چھٹی کرنے کی اجازت نہ ہوتو ان کے لئے کام مکمل ہونے کے باوجود بھی ڈیوٹی ٹائم میں کمپنی میں حاضر رہنا ضروری ہے، اور اگر کوئی وقت سے پہلے چلا جائے تو وہ غیر حاضری کے بقدر اجرت کا مستحق نہیں ہوگا، تاہم اگر ملازمین مہینے میں ملازمت کے اوقات میں زیادہ وقت حاضر رہتے ہوں تو انہیں تنخواہ کی مد میں ملنے والی رقم سے قربانی کرنا شرعاً جائز اور درست ہوگا۔
وفی مجلۃ الاحکام العدلیۃ: (المادة 425) : الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشترط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة (ص82، ط:نور محمد، کراتشی)۔
وفی الہندیۃ: وفي فتاوى الفضلي - رحمه الله تعالى -: إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة (ج4،ص 416، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار : وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل (ج6،ص 70)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0