میں پاکستان میں آن لائن جوب کرتا ہوں، دبئی کی ایک انشورنس کمپنی کا ا کاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں، دبئی ایک اسلامک مملکت ہے، اس لیے وہاں انشورنس کمپنی بھی اسلامی قوانین کے مطابق ہی کھلی ہوگی، ہماری کمپنی کا ایک شریعہ بورڈ بھی ہے جس کے چیئرمین مفتی زبیر عثمانی صاحب ہیں، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری یہ جوب اور تنخواہ جائز ہے؟
سائل کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہو کہ وہ جس کمپنی میں فرائض سر انجام دے رہا ہے، وہ واقعۃ ایک ایسے شریعہ بورڈ کی نگرانی میں کام کر رہی ہو کہ جس کے چئرمین ”مفتی زبیر عثمانی “ہوں تو سائل کا اس کمپنی میں ملازمت اختیار کرنا جائز اور درست ہے ، اور اس سے ملنے والی تنخواہ بھی حلال ہے،ورنہ نہیں۔
کما فی قولہ تعالیٰ: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا اھ (سورۃ البقرۃ، الآیۃ: 275)-
وقال ایضاً: وتعاونوا علی البّر وّالتّقوی (سورۃ المائدۃ، الآیۃ: 2)-
وفی صحیح مسلم: عن جابرؓ قال :لعن رسول ﷺ اٰکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء اھ (کتاب البیوع، باب الربا، ج 2، ص27، ط: قدیمی کتب خانہ)-
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن جابر قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا» أي: آخذه وإن لم يأكل ، وإنما خص بالأكل لأنه أعظم أنواع الانتفاع كما قال تعالى: {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما} (ومؤكله) : بهمزة و يبدل أي: معطيه لمن يأخذه ، وإن لم يأكل منه نظرا إلى أن الأكل هو الأغلب أو الأعظم كما تقدم ، قال الخطابي: سوى رسول الله - صلى الله عليه وسلم بين آكل الربا وموكله ، إذ كل لا يتوصل إلى أكله إلا بمعاونته ومشاركته إياه، فهما شريكان في الإثم كما كانا شريكين في الفعل ، (الی قولہ) (وكاتبه وشاهديه) : قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل، الخ (الفصل الاول، باب الربا،ج6، ص51، ط: حقانیہ)-
و فی تکملۃ فتح الملھم : ان التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز ، فان کان عمل المؤظف فی البنک ما یعین علی الربا ،کالکتابۃ او الحساب ، فذالک حرام لوجھین الاول اعانۃ علی المعصیۃ و الثانی اخذ الاجرۃ من مال الحرام ، فان معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا ،و اما اذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فانہ حرام لوجہ الثانی فحسب، فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال ، جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الاعمال و اللہ اعلم اھ(1/619)-
وفی رد المحتار: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص ، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي اھ (کتاب الحظر و الاباحۃ ، فصل فی البیع ، ج 6، ص403، ط: ایچ ایم سعید)-
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0