میرا داماد منع کرنے کے باوجود ice کا نشہ کرتاہے ۔جس کی وجہ میں اپنی بیٹی اور دو نواسیوں کو اپنے گھر واپس لے آیا ،داماد نے چند دن نشہ چھوڑا تو طبیعت خراب ہو گئی۔بار بار فون کرتا تھا کہ میں اپنی بیوی اور بچیاں واپس لے جاؤں، لیکن میں نے بولا کہ جب تک مکمل نشہ چھوڑ کر کمانا شروع نہیں کرو گے تب تک تمہاری بیوی اور دونوں بیٹیاں میرے پاس رہیں گی ،چند دن بعد مجھے فون کیا اور اپنامطالبہ دہرایا، میرے انکار پر بولا کہ پھر مجھ سے فیصلہ لے لیں ۔ اور بدلی ہوئی آواز میں مجھے گالی دی اور تین بار طلاق بول کر فون بند کر دیا ۔
کیا نشہ چھوڑنے کیوجہ سے دماغی حالت درست نہ ہوتے ہوۓ بھی طلاق واقع ہو چکی ہے ؟
واضح ہوکہ سائل نے اپنے دامادکی دماغی حالت صحیح نہ ہونےکاجوعذربیان کیاہے شرعاًوہ قابل اعتبارنہیں ،کیونکہ سوال سے معلوم ہوتاہے کہ سائل کے دامادنے جس وقت طلاق کے الفاظ کہے وہ اپنے ہوش وحواس میں تھا،لہذاصورت مسئولہ میں سائل کے دامادنےاگرواقعۃًاپنی بیوی کوطلاق دینے کی غرض سے فون پرتین بارطلاق کے الفاظ بول دیے ہیں تواس سائل کی بیٹی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتااورحلالہ شرعیہ کے بغیردوبارہ باہم عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذاسائل کی بیٹی ایام عدت گزارکردوسری جگہ نکاح کرنے شرعاًآزادہوگی ۔
کمافی الشامية :صرح المحقق ابن الهمام فى التحرير أن تعريف السكر بما مر عن الامام انما هو فى السكر الموجب للحد وأما تعريفه عنده في غير وجوب الحد من الأحكام فالمعتبر فيه عنده اختلاط الكلام والهذيان كقولهما. ونقل شارحه ابن أمير حاج عنه أن المراد أن يكون غالب كلامه هذيانا، فلو نصفه مستقيما فليس بسكر فيكون حكمه حكم الصحاة في إقراره بالحدود. ((432/