کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ اور میری بیوی کی موبائل پر بات ہوئی اور لڑائی ہوئی ، ایک دوسرے کو گالیاں دیں ، پھر میں نے اپنی والدہ سے موبائل لے کر اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، اس نے موبائل بند کردیا ، پھر اس کی بہن نے فون کیا ، میں نے اپنی والدہ سے فون لے کر اس کی بہن کو بولا کہ میں نے طلاق دے دی ہے، دے دی ہے،اس صورت میں کتنی طلاقیں ہوئی ہیں ؟
تنقیح : سائل سے باقاعدہ رابطہ کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ سائل نے اپنی بیوی کی بہن کو یہ الفاظ" میں نے طلاق دے دی ہے، دے دی ہے" نہ تو کسی تاکید کےلئے کہے تھے اور نہ ہی پہلی طلاق کی خبر دینا مقصود تھا، بلکہ سائل نے یہ الفاظ بغیر کسی نیت کے ڈرانے کی غرض سے کہے تھے۔
سائل نے جب اپنی بیوی کو فون پر پہلی مرتبہ مذکور الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کہنے کے بعد اپنی سالی کو فون پر یہ الفاظ " میں نے طلاق دے دی ہے، دے دی ہے" کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرجانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی البحر الرائق: وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة الخ ( کتاب الطلاق ج 3 ص 264 )۔
وفی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ( کتاب الطلاق ج 1 ص 473 ط: ماجدیہ)۔