السلام علیکم!
میں نے بینک سے قسطوں پر گاڑی لے لی ہے اور مجھے اب پتہ چلا ہے کہ ساتھ میں سود بھی شامل ہے ہر مہینہ , اور گاڑی میرے استعمال میں ہے ، اب کیا کروں؟ کیسے اس سے باہر آؤں اور کیا یہ سود میں آرہا ہے؟ اگر آرہا ہے تو اس کا کیا حل ہے؟ مجھے اب کیا کرنا چاہیئے قسطیں بھرتا رہوں اور جیسے کوئی پیمنٹ آئے کلیئر کرلوں یا کوئی اور طریقہ ہے؟
واضح ہو کہ نقد کے معاملے میں ادھار یا قسطوں پر خرید و فروخت کی صورت میں زیادہ قیمت مقرر کرنا شرعاًسود کے زمرے میں داخل نہیں ،بلکہ جائز اور درست ہے، تاہم اس میں درجِ ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے :
(۱)۔ بینک گاڑی شو روم وغیرہ سے خرید کر اپنے قبضے میں لے چکا ہو اور پھر دوسرے عقد کے ذریعے کسٹمر پر فروخت کرے۔
(۲)۔اول مجلسِ عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(۳)۔ ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے۔
(۴)۔ یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہونگی۔
(۵)۔ کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو۔ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے بینک سے گاڑی قسطوں پر خریدنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، لہٰذاسائل نے اگر ان شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے بینک سے گاڑی قسطوں پر لی ہو تو ایسی صورت میں وہ شرعاً سودی معاملہ کرنے والا نہیں کہلائے گا، تاہم اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط موجود نہ ہو تو وہ بینک سے اس معاملہ کو فسخ کردے یا اس کی درستگی کروالے اور اگر یہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو وہ جلد از جلد بینک کو بقیہ تمام اقساط یکمشت ادا کرکے گاڑی اپنے نام منتقل کروالے، تاکہ اس غیر شرعی معاملہ سے خلاصی ہوسکے۔
قال اللہ تعالیٰ: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا اھ ( سورۃ البقرۃ / 275 )۔
ففي الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع اھ (ج 3 ص 531 ط: سعید)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 8)
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0