مفتی صاحب ! میں نے گواہوں کے بغیر فون پر نکاح کیا تھا ، اس کے بعد کسی وجہ سے غصے میں آکر اپنی بیوی کو تین طلاق دےدی ، پھر کسی مفتی صاحب نے بتا یا کہ شرعی گواہان موجود نہ ہونے کی وجہ سے آپ کا نکاح شرعا ًدرست نہیں ہوا تھا ، اس لئےکوئی طلاق بھی واقع نہیں ہوئی ، یہ سن کر میں نے نئے حق مہر اور باقی تمام شرائط کا خیال رکھتے ہوئے دوبارہ نکاح کیا ، پہلی بیوی سے فون پرنکاح کرنے کے بعد میں نے ایک اور شادی کی تھی ، میں نے پہلی بیوی سے صحیح طور پر شادی کرنے کے بعد اس بیوی کو بھی یوکے میں میرے پاس بلا لیا ،جس پر دوسری بیوی نے پولیس بلالی، لہذا میں نے اس قانونی مجبوری کی بناء پر آپ کے ویب سائٹ پر انگلش میں قانونی مجبوری کی بنا پر جعلی طلاق نامہ بنوانے کے بارے میں استفتاء پڑھا اور پھر اس کے مطابق ایک جعلی طلاق نامہ بنوایا ، اور اس پر سائن کیا ، لیکن یہ طلاق نامہ بنوانے سے پہلے میں نے اپنی بیوی کو بھی کہا تھا کہ میں قانونی مجبوری کی وجہ سے جعلی طلاق نامہ بنوا رہا ہوں ، طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں ہے ، اسی طرح میں نے طلاق نامہ بنوانے سے پہلے دو اور لوگوں کوبھی گواہ بنایا کہ میں مجبوراً طلاق نامہ بنوا رہا ہوں ، لیکن میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ، میں صرف پولیس والوں سے بچنے کے لئے جھوٹا طلاق نامہ بنوارہا ہوں ، اب اس صورتحال میں میری بیوی پر کوئی طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ براہ ِمہربانی رہنما ئی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ مفتی غیب نہیں جانتا ، بلکہ وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، جبکہ سوال کے سچ یا جھوٹ ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے ، لہذا سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل نے محض مجبوری اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کی خاطر جعلی طلاق نامہ بنواکر اس کے جعلی ہونے پر بیوی اور مزید دو لوگوں کو گواہ بھی بنایا ہو ، نیز طلاق نامہ پر دستخط کرتے وقت نیت طلاق کے نہ ہونے کی صراحت کے ساتھ ساتھ زبان سے الفاظ ِطلاق کچھ بھی ادا نہ کیے ہوں، تو اس جعلی طلاق نامہ بنوانے اور اس پر فقط دستخط کرنے سے سائل کی پہلی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے اور وہ دونوں حسب سابق ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں ۔
كما في رد المحتار : تحت ( قوله أو هازلا) نقل عن البزازية و القنية : لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا الخ (مطلب في المسائل التي تصح مع الإكراه، ج 3، ص 238، ط : سعيد)-