کیا کسی مسلم تنظیم یا خیراتی ادارے میں کام کرنا جائز ہے جو عالمی سطح پر امتِ مسلمہ کے پسماندہ افراد کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتی ہے؟ یہ تنظیمیں، جن کا بجٹ کروڑوں میں ہے، پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور زکوٰۃ کے فنڈز اور دیگر عطیات پر انحصار کرتے ہیں جو انکی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔ عملے کی تنخواہیں، بشمول انتظامی اخراجات، زکوٰۃ فنڈ میں شامل ہیں۔ میں اس وقت ایک ایسی تنظیم میں ملازم ہوں، اور میں وضاحت طلب کر رہا ہوں کہ یہاں کام کرنا اور تنخواہ لینا حلال ہے یا حرام؟
ایسی مسلم رفاہی تنظیم جو شرعی شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے مخیّر حضرات سے ان کے صدقاتِ واجبہ جیسے زکوٰۃ ، صدقہ فطر وغیرہ اور صدقاتِ نافلہ جیسے عطیات وغیرہ کو لے کر ، ان کے واقعی مستحقین تک پہنچانے کا اہتمام کرتی ہو ، نیز شرعی حیلۂ تملیک کو بروئے کار لاتے ہوئے زکوٰۃ فنڈ سے یا عام عطیات کی مد سے ملازمین کی تنخواہ اور دیگر اخراجات پورا کرنے کا اہتمام کرتی ہو ، تو ایسی تنظیم میں بحیثیت ملازم کام کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الھندیۃ : و كذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بها التمليك كعمارة المساجد و بناء القناطر و الرباطات لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه.( والحيلة أن يتصدق بمقدار زكاته ) على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد و القنطرة الخ۔ ( کتاب الحیل ، الفصل الرابع فی الزکوٰۃ، ج۶، ص۳۹۲ ، ط۔ ماجدیہ )۔
و فی ردالمحتار : و في التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب و الوصي و غيرهما و يصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني الخ ۔ (کتاب الزکوٰہ، ج۲ ، ص۳۴۴ ، ط۔ سعید )۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0