السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ باجماعت نماز ادا کرنے کے دوران امام کی آواز نہ آنے کی وجہ سے پیچھے کھڑے مقتدی سجدے ہی کی حالت میں رہ گئے اور بعد میں جب امام التحیات کی حالت میں تھے تو و ہ مقتدی اپنے سجدے پورے کر کے امام کی حالت تک پہنچے، کیا اس صورت میں ان مقتدیوں کی نماز درست ہے یا ان کو اپنی نماز دہرانی ہوگی؟ بینوا توجروا
صورتِ مسؤلہ میں اگر آواز نہ آنے کی وجہ سے مقتدیوں کا سجدہ لمبا ہوگیا تھا لیکن قعدہ میں ہی امام کو پا لیا تھا تو ان کی نماز درست ادا ہوگئی ہے ۔
کما فی رد المحتار: تحت (قولہ ومتابعۃ الإمام) قال فی شرح المنیۃ (إلی قولہ) والحاصل أن متابعۃ الإمام فی الفرائض والواجبات من غیر تأخیر واجبۃ، فإن عارضھا واجب لا ینبغی أن یفوتہ بل یأتی بہ ثم یتابع، کما لو قام الإمام قبل ان یتم المقتدی التشھد فإنہ یتمہ ثم یقوم لأن الإتیان بہ لا یفوت المتابعۃ بالکلیۃ: وإنما یؤخرھا، والمتابعۃ مع قطعہ تفوتہ بالکلیۃ، فکان تأخیر أحد الواجبین مع الإتیان بھما أولی من ترک أحدھما بالکلیۃ الخ (کتاب الصلاۃ ج 2 ص 470 ط: سعید)