السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ!محترم آج کل تمام بینک بشمول میزان بینک،حبیب بینک،بینک الفلاح اوربینک الاسلامی نے ایک نئی اکاؤنٹس اسکیم شروع کی ہوئی ہے،یاہوسکتاہے میرےعلم میں اب آیاہو،ان اکاؤنٹس کو یہ انویسٹمنٹ اکاؤنٹ کہتے ہیں،ان میں آپ کو روزانہ کی بنیاد پر پرافٹ ملتاہے،اور ان اکاؤنٹس میں سےکسی بھی وقت آپ اپنے اکاؤنٹ سے اپنی رقم نکال سکتے ہیں،ماسوائےجمعہ اورہفتہ کےدن کے،معلوم کرنےپربینک والوں نے بتایاکہ بینک ان اکاؤنٹس میں جمع شدہ رقم مختلف جگہوں پر انویسٹمنٹ کرتے ہیں،جن سےانہیں پرافٹ ملتاہےاور وہ یہ پرافٹ اکاؤنٹ ہولڈرز میں جمع شدہ رقم کےحساب سےبانٹ دیتے ہیں،ان کے بقول ان کے پاس اس حوالےسےمختلف مفتیانِ کرام کے فتاوی بھی موجود ہیں جو اس تاثرکوزائل کرتے ہیں کہ حاصل ہونے والاپرافٹ سود کےزمرے میں آتاہے،آنجناب سےاس بارے میں آگاہی حاصل کرنی ہےکہ آیاایسےاکاؤنٹس میں رقم جمع کروا کرپرافٹ لینااور اپنےروزانہ کےامور میں خرچ کرناصحیح ہےیا یہ پرافٹ سود کےزمرے میں آئےگا؟گزارش ہے کہ کم عقل ہونےکیوجہ سے اگر سوال میں کوئی خامی یاسقم رہ گیاہو تو اسےدرگزر کردیجئےگا۔
واضح ہوکہ جوغیرسودی بینک یاسودی بینکوں کی غیرسودی برانچزمستندمفتیان پرمشتمل شرعیہ بورڈکےزیرنگرانی اپنےتمام مالی معاملات سرانجام دے رہے ہوں،اورسائل کوان پراعتمادہوتوان بینکوں کےانویسٹمنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھواکرروزانہ یاماہانہ بنیادپرمنافع لینادرست ہے۔
کما قال اللہ تعالی: احل اللہ البیع وحرم الربٰوا فمن جاءہ موعظۃ من رّبہ فانتھی فلہ ماسلف وامرہ الی اللہ ومن عاد فاولۤئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون۔(الآیۃ 275/سورۃ النساء)۔
وفی الدرالمختار: (کتاب المضاربۃ)(عقد شرکۃ فی الربح بمال من جانب)رب المال(وعمل من جانب)المضارب الخ(ج5 صـ645 کتاب المضاربۃ ط:ایچ ایم سعید)۔
وفیہ ایضاً: (عبارۃ عن عقد بین المتشارکین فی الاصل والربح)جوھرۃ (ورکنھا فی شرکۃ العین اختلاطھما وفی العقد اللفظ المفیدلہ)وشرط جوازھا کون الواحد قابلا للشرکۃ الخ(ج4 صـ298 کتاب الشرکۃ)
وفی ردالمحتار: ولاشک ان مشروعیتھا اظھر ثبوتا اذ التوارث والتعامل بھا من لدن رسول اللہﷺ وھلم جرا متصل لایحتاج فیہ لاثبات حدیث بعینہ الخ (ج4 صـ298 کتاب الشرکۃ ط:ایچ ایم سعید)۔