میں حکومت پاکستان کے محکمہ ٹیکس میں کام کرنے والا سرکاری ملازم ہوں ، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کا حکم جاننا چاہتا ہوں ،ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنا شریعت کی رو سے حلال ہے یا نہیں؟ جیسا کہ بعض علماء اسے حرام کہتے ہیں۔
نوٹ: مذکور ڈپارٹمنٹ میں سائل کی ملازمت ٹیکس وصول کرنے کے متعلق ہے۔
ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں کام کا طریقہ کار اور ٹیکس وصولی وغیرہ کی تفصیل تو ہمارے سامنے نہیں تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم سائل اگر ملکی قانون کے مطابق مفوضہ جائز ذمہ داری کو مکمل ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ سر انجام دے ، رشوت یا غلط رپورٹ بنانے سے مکمل اجتناب کرے تو سائل کا مذکور ملازمت کرنا اور اس پر تنخواہ لینا درست ہے ، البتہ اس سلسلہ میں اگر سائل کو کسی خاص معاملہ سے متعلق کوئی اشکال ہو تو اس کی تفصیل ذکر کرکے مکرر معلوم کر سکتا ہے ۔
کما فی البحر الرائق: وأما ركنها فهو الإيجاب والقبول والارتباط بينهما، وأما شرط جوازها فثلاثة أشياء: أجر معلوم، وعين معلوم، وبدل معلوم الخ(کتاب الاجارۃ۔ج 8 ص 3)۔
وفی الدر المختار :(وکری نھر )ای حفرہ(غیر مملوک من بیت المال فان لم یکن ثمۃ)ای فی بیت المال(شیئ یجبر الناس علی کریہ ان امتنعو عنہ)دفعا للضرر الخ(ج 6 ص 441 ط:سعید)۔
وفی رد المحتار:تحت(قوله من بيت المال) خبر المبتدأ أي مال الخراج والجزية (الی قولہ) (قوله يجبر الناس) أي الذين يطيقون الكري ومؤنتهم من مال الأغنياء الذين لا يطيقونه الخ(فصل الشرب۔ج 6 ص 441)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0