السلام علیکم ! آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس فتویٰ کے متعلق مطلع فرمائیں ، کیا بنک الحبیب میں سیونگ اکاؤنٹ سے منافع لینا جائز ہے ؟ آپ کا خیرخواہ ۔
بینک الحبیب کی غیر سودی برانچز جو مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی زیر نگرانی میں اپنے تمام مالی معاملات سرانجام دے رہی ہوں اور سائل کو بھی ان مفتیانِ کرام پر اعتماد ہو تو ان غیر سودی برانچز میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس پر ماہانہ یا سالانہ منافع حاصل کرنا درست ہے۔
قال اللہ تعالی: وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ الایہ(مائدہ ۔ آیۃ 2)۔
وفی رد المحتار : تحت (قولہ کل قرض جر نفعا حرام)ای اذا کان مشروطا الخ (ج 5 ص 166 ط : سعید)۔