السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کہ بارے میں کہ میں نے ایک پراپرٹی کم قیمت میں بیچی ہے جو کراچی میں تھی ، اس پراپرٹی کو بیچنے کی وجہ یہ ہے کہ میں اس گھر کو سنبھالنے یا اس کی دیکھ بھال کرنے کے قابل نہیں تھا، اس وقت میں لاہور میں ہوں اور اتنے بجٹ میں لاہور میں پراپرٹی ملنا مشکل ہے ، میرے پاس اپنے بچوں کے لیے بھی کچھ بچت ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اسلامی بینکاری جیسے میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھول سکتا ہوں اور جمع کر سکتا ہوں ، میں اس سیونگ اکاؤنٹ سے کمائے گئے منافع کی رقم اپنے روز مرہ کی زندگی کے اخراجات میں استعمال کرنا چاہوں گا، میں سمجھتا ہوں کہ روایتی بینکنگ سے کمایا گیا سود یا منافع حرام ہے ، کیا میزان بینک کے اسلامک سیونگ اکاؤنٹ سے منافع لینا حلال ہوگا؟ ہم آپ کے مناسب وقت پر فون پر مزید بات چیت کر سکتے ہیں۔شکریہ
ہماری معلومات کے مطابق فی الحال میزان بینک کے اکثر و بیشتر معاملات مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کے زیر نگرانی انجام دئیے جارہے ہیں ، لہذا میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوا کر منافع حاصل کرنے کی گنجائش ہے ۔