اگر بریلوی امام کے عقائد شرکیہ ہوں تو اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی ؟
واضح ہو کہ بریلوی حضرات اپنے غلط اور گمراہ کن عقائد ونظریات اور بدعات کی وجہ سے راہِ حق سے ہٹے ہوئے ضرور ہیں،لیکن اس کے باوجود ان پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جاسکتا ،لہذا کسی سنی العقیدہ امام کے ہوتے ہوئے بلاضرورت بریلوی امام کی اقتداء میں نماز نہیں پڑھنی چاہیئے،لیکن اگر کوئی سنی العقیدہ امام موجود نہ ہو تو اکیلے نماز پڑھنے کے بجائےاس کی اقتداء میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے،جبکہ اگر کسی خاص امام کے متعلق یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ وہ بلا تاویل شرکیہ عقائد کا حامل ہے، تو پھر اس کے پیچھے نماز پڑھنا شرعاً جائز نہیں، اور جو نمازیں پڑھ لی گئی ہوں تو ان نمازوں کا اعادہ لازم ہے ۔
کما فی البحر الرائق: لو صلی خلف فاسق او مبتدع ینال فضل الجماعۃ لکن لا ینال کما ینال خلف تقی ورع (الی قولہ) وقیدہ فی المحیط بان لاتکون بدعتہ تکفرہ فان کانت تکفرہ فالصلوۃ خلفہ لاتجوز الخ (ج1 ص349باب الامامۃ ط: ماجدیہ)۔واللہ اعلم