امامت و جماعت

رفع یدین کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
70312
| تاریخ :
2024-01-13
عبادات / نماز / امامت و جماعت

رفع یدین کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم

السلام علیکم ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز میں اگر کوئی شخص رفع الیدین کرتا ہو ، تو کیا اس رفع الیدین کرنے سے باقی نمازیوں کی نماز نہیں ہو گی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ کسی ایک نمازی کے رفع یدین کرنے کا دیگر نمازیوں کی نماز درست ہونے یا نہ ہونے سے کیا تعلق ہے؟ تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا تا ہم سائل کی مراد اگر ایسے امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے حکم کے متعلق ہو جو رفع یدین کرتا ہو ، تو جاننا چاہیئے کہ عند الاحناف تکبیر ِتحریمۃ کے علاوہ دیگر ارکان کی ادائیگی کے وقت رفع الیدین نہ کرنا بہتر ہے، لیکن اگر کوئی شخص ان مواقع میں بھی رفع الیدین کرنے کو افضل سمجھ کر کرتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی ذاتی نماز اور اس کی اقتداء کرنے والے مقتدیوں کی نماز بلاشبہ درست ادا ہوجاتی ہے، اس لئے رفع الیدین کرنے والے امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا شرعاً جائز اور درست ہے، بشرطیکہ وہ صحت نماز کی دیگر شرائط کی رعایت رکھتا ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی شرح معانی الآثار: عن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، عن رسول اللہ ﷺ: أنہ کان إذا قام إلی الصلاۃ المکتوبۃ کبّر و رفع یدیہ حذو منکبیہ، و یضع مثل ذلک إذا قضی قراءتہ، إذا اراد أن یرکع ، و یصنعہ إذا فرغ و رفع من الرکوع، و لا یرفع یدیہ فی کذلک و کبّر اھ
قال أبو جعفر: فذھب قوم إلی ھذہ الآثار، فاوجبوا الرفع عند الرکوع و عند الرفع من الرکوع و عند النھوض إلی القیام من القعود فی الصلاۃ کلھا اھ
و فیہ ایضاً: عن البراء ابن عازب رضی اللہ عنہ قال: کان النبی ﷺ إذا کبّر الافتتاح الصلاۃ رفع یدیہ حتی یکون ابھاماہ قریباً من شحمتی أذنیہ، ثم لا یعد اھ
و خالفھم فی ذلک آخرون: فقالوا: لا نری الرفع إلا فی تکبیرۃ الأولی الخ (کتاب الصلاۃ باب التکبیر للرکوع الخ ج ا صـ 306-304 ط:بشری)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70312کی تصدیق کریں
2     1258
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات