اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اسلام میں عورت کی حیثیت کتے جیسی ہے،صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین اپنی بیویوں کے حوالے سے بڑے سخت تھے،اور انکے گھروں میں انکی بیویوں کے لئے ہر وقت درہ لٹکا رہتا تھا،تو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ایسے شخص کا ایمان باقی رہا یا نہیں؟اور اگر شادی شدہ ہے تو نکاح باقی رہا یا نہیں؟
واضح ہوکہ اگر کوئی شخص اپنی جہالت یاکسی کی غلط رہنمائی کی بنیاد پر یہ کہےکہ"اسلام میں عورت کی حیثیت کتے جیسی ہے"تواس طرح کہنےسےاگرچہ وہ دائرۂ اسلام سےخارج نہیں ہوتااور نہ ہی اس وجہ سےنکاح ختم ہوتاہے،لیکن مذکورالفاظ انتہائی خطرناک اور دینِ اسلام سےدوری پرمبنی ہیں،لہذا اس طرح کےالفاظ استعمال کرنےسےاجتناب لازم ہے،جبکہ اسلام نے جس طرح عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک اوراچھابرتاؤ کرنے کی ترغیب دی ہے،اسی طرح شرعی احکام پرعمل کرنے کےحوالے سےان سےبالکل لاپرواہی برتنےسےبھی منع کیاہےاور بوقتِ ضرورت شرعی حدود میں رہتےہوئےتنبیہ کی گنجائش بھی دی ہے،اور اسی وجہ سے احادیثِ مبارکہ میں گھرمیں کوڑا لٹکانے کاذکرآتاہے،تاکہ گھر والے دین کے حولے سے بالکل بے خوف اور لاپرواہ نہ رہیں ۔
کما فی ردالمحتار تحت(قولہ: ان اعتقد المسلم کافرا نعم) (الی قولہ) وفی الذخیرۃ المختار للفتوی انہ ان ارادالشتم ولایعتقدہ کفرا لایکفر وان اعتقدہ کفرا فخاطبہ بھذا بناء علی اعتقادہ انہ کافر یکفر الخ( ج4 صـ69 کتاب الحدود باب التعزیر ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: (ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجۃ)قال ابوبکرؒ: فی ھذہ الآیۃ ان لکل واحد من الزوجین علی صاحبہ حقا وان الزوج مختص بحق لہ علیھا لیس لھا علیہ مثلہ بقولہ تعالی(وللرجال علیھن درجۃ) ولم یبین فی ھذہ الآیۃ مالکل واحد منھما علی صاحبہ من الحق مفسرا وقد بینہ فی غیرھا وعلی لسان رسولہ ﷺ فمما بینہ اللہ تعالی من حق المرأۃ علیہ قولہ تعالی(وعاشروھن بالمعروف)وقولہ تعالی (فامساک بمعروف او تسریح باحسان) وقال تعالی(وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف)(الی قولہ) (فان اطعنکم فلا تبغوا علیھن سبیلا) ومن درجات التفضیل ما اباحہ للزوج من ضربھا عند النشوز وھجران فراشھا الخ (ج1 صـ374 -376 باب حق الزوج علی المرأۃ وحق المرأۃ علی الزوج ط: سہیل اکیڈمی)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1