کیا مفتی تقی عثمانی صاحب کی انشورنس کمپنی ہے؟ کیا انشورنس جائز ہے؟ طیب تکافل میں کام کرنا کیسا ہے ؟
واضح ہو کہ مروجہ انشورنس سود ، قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً نا جائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے ، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ، اور ہماری معلومات کے مطابق حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی کوئی بھی انشورنس کمپنی نہیں اور نہ ہی وہ براہ راست کسی انشورنس کمپنی کی سرپرستی کررہے ہیں ، جبکہ مروجہ انشورنس کا جائز اور صحیح متبادل تکافل ہے ، جو وقف اور وکالت وغیرہ کی بنیاد پر قائم ایک سسٹم (نظام ) ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں طیب تکافل بھی اگر مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں وقف اور وکالت وغیرہ کے اصول وضوابط کے عین مطابق کام کررہا ہو تو طیب تکافل کی پالیسی لینا یا اس ادارہ میں ملازمت کرنا شرعاً جائز اور درست ہوگا، ورنہ نہیں ۔
قال اللہ تعالی : وتعاونوا علی البّر وّالتّقوی (سورۃ المائدۃ ایۃ 2 )۔
کما فی صحیح مسلم : عن جابر رضی اللہ عنہ قال :لعن رسول ﷺ اٰکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء اھ (ج 2 ص27 کتاب البیوع باب الربا ط قدیمی) ۔
وفیہ ایضاً: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال نھی رسول ﷺ عن بیع الحصاۃ وعن بیع الغرر (ج2 ص2 کتاب البیوع ط قدیمی )۔
وفی ردالمحتار : (لأنہ یصیر قماراً ) (الی قولہ ) وسمی القمار قماراً لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذھب مالہ الی صاحبہ الخ (ج 6 ص 403 فصل فی البیع کتاب الحظر الاباحۃ ط سعد ) ۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0