امامت و جماعت

جرابوں پر مسح کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
70146
| تاریخ :
2024-01-04
عبادات / نماز / امامت و جماعت

جرابوں پر مسح کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ معزز و مکرم مفتی صاحب! کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک حنفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہوں اور جس مسجد میں نماز پڑھتا ہوں وہ مسجد اہل حدیث مکتبۂ فکر کی ہے ،تو اگر میں مسجد میں جاتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ امام ِمسجد صاحب نے وضو باقی تو ٹھیک کیا ہے لیکن جرابوں پر مسح کیا ہے تو کیا یہ جانتے ہوئے بھی میری نماز اس امام ِمسجد صاحب کے پیچھے ہو جائے گی یا نہیں ہو گی ؟ کیونکہ پاس میں کوئی فقہ حنفی کی مسجد موجود نہیں ہے اور ہم جرابوں پر مسح کے قائل نہیں ہیں بلکہ موزوں پر مسح کے قائل ہیں ، جواب سے نوازیں ،اللہ تعالی آپ کو دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے آمین،۔جزاکم اللہ خیراً !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عام نیلون کے جوراب موزے (باریک سے ہوتا ہیں )ان پر دورانِ وضو مسح کرنا جائز نہیں ، بلکہ عام حالات میں وضو کی تکمیل درستگی کے لئے دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھونا لازم اور ضروری ہے ، لہذا جس امام کے بارے میں یقین ہو کہ اس نے دورانِ وضو پاؤں دھوئے بغیر عام باریک موزوں پر فقط مسح کیا ہے ، تو عند الاحناف اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست نہیں ، بلکہ ایسی پڑھی ہوئی نمازوں کا اعادہ کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في التاتارخانیۃ: یجب أن یعلم بأن المسح علی الخفین جائز عند عامۃ العلماء بآثار مشھوۃ قریبة من المتواتر ، و عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ أنہ سئل عن اہل السنۃ و الجماعۃ فقال: أن تجب الشیخین و لا تطعن فی الختنین و تمسح علی الخفین اھ ( کتاب الطھارۃ الفصل السادس فی المسح علی الخفین ج 1 صـ 262 ط: ادارۃ القرآن )
وفي الدر المختار: (أو جوربیہ) و لو من غزل أو شعر (الثخینین) بحیث یمشی فرسخاً و یثبت علی الساق بنفسہ و لا یری ما تحتہ و لا یشف إلا أن ینفذ إلی الخف قدر الغرض اھ ( کتاب الطھارۃ باب المسح علی الخفین ج 1 صـ 269 ط: سعید)
وفي رد المحتار: تحت ( قولہ کما بسطہ فی البحر ) حیث ذکر أن الحاصل أنہ إن علم الاحتیاط منہ فی مذھبنا فلا کراھۃ فی الاقتداء بہ و إن علم فلا صحۃ، و إن لم یعلم شیئا کرہ اھ ( کتاب السلاۃ باب الوتر و النوافل ج 2 صـ7 ط: سعید)
وفي رد المحتار: تحت (قولہ إن تیقن امراعاۃ لم یکرہ الخ) أی المراعاۃ فی الفرائض (إلی قولہ) و بحث المحشی أنہ آن علم أنہ راعی فی الفروض و الواجبات و السنن فلا کراھۃ، و إن علم ترکہا فی الثلاثۃ لم یصح، و إن لم یدر شیئا کرہ الخ ( کتاب السلاۃ باب الإمامۃ ج 1 صـ563 ط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70146کی تصدیق کریں
0     1225
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات