السلام وعلیکم! مسجد کے بارے میں منہ سے غیر ارادی طور پرنازیبا کلمات نکل گئے، جیسےیہ مسجد بہت بڑی ہے اور جگہ بہت ہوتی ہے اور ساتھ میں جو گالی کے الفاظ زبان پر ہر وقت ہوتے ہیں، وہ ادا ہوگئے، اس کے بعد استغفار اور صلاۃ التوبہ بھی پڑھ لی، اب اس کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ مسجد بھی شعائرِاسلام میں سے ہے، چنانچہ توہین کی غرض سے مسجد کو گالی دینا انتہائی خطرناک اور کفریہ عمل ہے اور اس کی وجہ سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔
تاہم صورتِ مسئولہ میں اگر شخصِ مذکور کی عادت ہی گالی دینے کی ہو اور بات بات میں گالی دیتا ہو، چنانچہ اپنی اسی عادت سے مجبور ہو کر مسجد کے متعلق بھی نازیبا کلمات ”غیر ارادی طور پر“ زبان سے نکل گئے ہوں، مسجد کی توہین کا باقاعدہ کوئی ارادہ نہیں تھا تو ایسی صورت میں اس پر کفر کا حکم تو لاگو نہیں کیا جاسکتا، البتہ یہ عادت انتہائی خطرناک ہے، لہذا شخصِ مذکور کو اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس قسم کے نازیبا کلمات سے مکمل اجتناب لازم ہے۔نیز شخصِ مذکور کو چاہیئے کہ احتیاطاً تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح بھی کرلے۔
ففی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: إذا أنكر آية من القرآن واستخف بالقرآن أو بالمسجد أو بنحوه مما يعظم في الشرع أو عاب شيئا من القرآن أو خطئ أو سخر بآية منه كفر الخ (1/ 692)
وفى الدر المختار: (و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف، ولو) كان ذلك (رواية ضعيفة) كما حرره في البحر، وعزاه في الأشباه إلى الصغرى. وفي الدرر وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر وواحد يمنعه فعلى المفتي الميل لما يمنعه، ثم لو نيته ذلك فمسلم وإلا لم ينفعه حمل المفتي على خلافه. (4/ 229)
وفى حاشية ابن عابدين: (قوله لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن) ظاهره أنه لا يفتى به من حيث استحقاقه للقتل ولا من حيث الحكم ببينونة زوجته. وقد يقال: المراد الأول فقط، لأن تأويل كلامه للتباعد عن قتل المسلم بأن يكون قصد ذلك التأويل، وهذا لا ينافي معاملته بظاهر كلامه فيما هو حق العبد وهو طلاق الزوجة وملكها لنفسها، بدليل ما صرحوا به من أنهم إذا أراد أن يتكلم بكلمة مباحة فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأ بلا قصد لا يصدقه القاضي وإن كان لا يكفر فيما بينه وبين ربه تعالى، فتأمل ذلك وحرره نقلا فإني لم أر التصريح به، نعم سيذكر الشارح أن ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط. مطلب في حكم من شتم دين مسلم ثم إن مقتضى كلامهم أيضا أنه لا يكفر بشتم دين مسلم: أي لا يحكم بكفره لإمكان التأويل. ثم رأيته في جامع الفصولين حيث قال بعد كلام أقول: وعلى هذا ينبغي أن يكفر من شتم دين مسلم، ولكن يمكن التأويل بأن مراده أخلاقه الرديئة ومعاملته القبيحة لا حقيقة دين الإسلام، فينبغي أن لا يكفر حينئذ، والله تعالى أعلم اهـ وأقره في [نور العين] ومفهومه أنه لا يحكم بفسخ النكاح، وفيه البحث الذي قلناه.
وأما أمره بتجديد النكاح فهو لا شك فيه احتياطا خصوصا في حق الهمج الأرذال الذين يشتمون بهذه الكلمة فإنهم لا يخطر على بالهم هذا المعنى أصلا. (4/ 229)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1