جناب عالی !گذارش ہے کہ میں " محمد ساجد ولد فضل ربی "ایک گھریلو مسئلے کے حل کے لئے درخواست گزار ہوں , معاملہ کچھ یوں ہے کہ پچھلے دنوں میرے گھر میں ایک تنازعہ ہوا ،اس تنازعہ کے دوران تلخ کلامی ہوئی تومعاملات اس حد تک پہنچے کہ ہمیں آپس میں دست و گریبان ہونا، پڑا ماحول کی گرماگرمی کی وجہ سے دونوں فریقین کو الگ کرنا پڑا اور وہ الگ الگ کمروں میں چلے گئے ، جہاں جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے میں نے , میرے کزن کی موجودگی میں اپنی بیوی کا نام لیے بغیر تین مرتبہ طلاق دے دی تھی جو کہ میری بیوی نے نہیں سنی اور میں نے اس کا نام بھی نہیں لیا ، وہاں تین افراد موجود تھے جو کہ گواہ ہیں , میں بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں نام لیے بغیر اپنی بیوی کی غیر موجودگی میں اسے طلاق دی ہے, آپ سے عرض ہے کہ شریعت کی روسے کیا یہ طلاق واقع ہوگئی ہے یا ابھی بھی کوئی گنجائش باقی ہے ؟رہنمائی فرمائیں ۔
p>
واضح ہو کہ شرعاًوقوعِ طلاق کیلئے بیوی کانام لینا ضروری نہیں اورنہ بیوی کاالفاظ طلاق سننا لازم ہے لہذا سائل مسمی "محمدساجد ولدفضل ربی "کے اقرار کے مطابق مذکور الفاظ چونکہ سائل نے بیوی کوطلاق دینے کی غرض سے ہی کہے تھے ، اس لئے اس سے سائل کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایّامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اورحلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدت طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنے پر رضامندہو ،تونئے مہر کےتقررکےساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا ، تاکہ وہ زوج ِاول کےلئےحلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاور درست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایۃ(البقرۃ:230)۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع : كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال : لو طلقت مرة أو مرتين ، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ "(5264)۔
و فی الدرالمختار : (قال : امرأته طالق و لم يسم و له امرأة) معروفة طلقت امرأته استحسانا(3/292)۔
و فی ردالمحتار : (قوله و لم يسم) أما لو سماها فكذلك بالأولى ، و يقع على التي عناها أيضا حتى لو كانت زوجته .(3/292)۔