امامت و جماعت

معذور شخص کے لئے نماز کے دروان صف میں کرسی رکھنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
69253
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

معذور شخص کے لئے نماز کے دروان صف میں کرسی رکھنے کا طریقہ

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبر کاتہ! امید ہے آپ عافیت سے ہونگے ، اگر کوئی شخص سجدہ کرنے کی اسطاعت نہ رکھتا ہو ، لیکن قیام کر سکتا ہو ، تو کیا اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنی چاہے ، یا سجدہ کے لیے بیٹھ کر پوری نماز پڑھنی چاہیے ؟ اب اگر کوئی شخص جماعت میں نماز کے دوران قیام کر ے اور سجدہ کے لیے کرسی پر بیٹھ جائے تو کیا یہ جائز ہے ؟ اور کرسی کی ٹانگیں کہاں رکھیں ؟اگر کرسی ٹانگوں کو مصلی کی ایڑیوں کی سطح پر رکھتا ہے ، تو وہ قیام میں دوسروں سے زیادہ آگے ہوگا ، اس لیے کوئی اتصال نہیں ہو گا ، اور اگر وہ اپنی کرسی پیچھے رکھ دے وہ پچھلے دوسرے مصلیوں کو پریشان کردے گا سجدہ کرنے وقت تو کرسی کہاں رکھنی ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ جو شخص زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرنے پر قادر ہو ، تو اس پر بیٹھ کر نماز باقاعدہ سجدہ کرکے پڑھنا لازم ہے ، کرسی پر بیٹھ کراشارے کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہیں ، البتہ اگر کوئی شخص زمین پر بیٹھ کر بھی سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو ، تو ایسی صورت میں بھی اگر چہ زمین پر بیٹھ کر اشارہ ہی سے نماز پڑھنا افضل وبہتر ہے ، مگر کوئی کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھناچاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے ، اس صورت میں مسجد میں جماعت کے ساتھ صف کے کنارے پر کرسی رکھنے کی صورت میں اگر چہ نماز ی قیام کے وقت دیگر نمازیوں سے صف میں قدرےآگے کھڑے ہوں گے لیکن عذر کی بنا پر شرعاً یہ معاف ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی ردالمحتار : تحت (قوله لأنه شرع للخروج) فيه أن ما شرع لغيره قد يكون ركنا كالقيام فإنه شرع وسيلة للركوع والسجود، حتى لو عجز عنهما يومئ قاعدا وإن قدر على القيام(بحث القعود الاخیر 1 ص 447 ط: سعید )۔
وفی الدرالمختار : من إضافة الفعل لفاعله أو محله ومناسبته كونه عارضا سماويا فتأخر سجود التلاوة ضرورة (من تعذر عليه القيام) أي كله (لمرض) حقيقي وحده أن يلحقه بالقيام ضرر به يفتى(قبلها أو فيها) أي الفريضة (أو) حكمي بأن (خاف زيادته أو بطء برئه بقيامه أو دوران رأسه أو وجد لقيامه ألما شديدا) (صلى قاعدا) (كيف شاء) (بركوع وسجود وإن قدر على بعض القيام) ولو متكئا على عصا أو حائط (قام) لزوما بقدر ما يقدر ولو قدر آية أو تكبيرة على المذهب لأن البعض معتبر بالكل (وإن تعذرا) لي تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف(لا القيام أومأقاعدا) (بابصلاۃالمریض ج 2 ص95 ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69253کی تصدیق کریں
0     1197
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات