کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے سات، آٹھ سال پہلے لڑائی جھگڑے میں اپنی بیوی کو دوبار طلاق دی ، یہ جملہ" میں نےتمہیں طلاق دی" دوبار کہا ، پھر بھی ہم میاں بیوی کی طرح رہتے رہے ، اب ایک ہفتہ پہلے پھر ہماری لڑائی ہوئی تو میں نے دوبار یہ جملہ " میں نےتمہیں طلاق دی "دوبار کہہ دیا ہے ،اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟تین طلاقیں ہو گئی ہیں یا رجوع کی گنجائش ہے ؟
صورت مسئولہ میں سائل نے سات، آٹھ سال قبل لڑائی جھگڑے کے دوران جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "میں نے تمہیں طلاق دی " دو مرتبہ کہہ دیے تھے تو اس سے سائل کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہو چکی تھیں ، چنانچہ اس کے بعد اگر دوران عدت دونوں میاں بیوی کی طرح رہنے لگے ہوں ، تو اس سے شرعاً رجوع بھی ہو چکا تھا، اور دونوں کا میاں بیوی کی طرح رہنا بھی درست تھا ، تاہم آئندہ کیلئے سائل کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیا ر تھا ، لیکن جب حالیہ لڑائی جھگڑے کے دوران سائل نے دوبارہ اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " میں نے تمہیں طلاق دی " دوبار کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر بقیہ ایک طلاق بھی واقع ہوکر مجموعی طورپر تینوں طلاقوں کے ذریعے حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اور بقیہ ایک طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکی ہے ،چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہو سکتا ہے ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،
اور حلالہ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرے مسلمان سےنکاح کرے اور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کےلئے ضروری ہے) کےفوراً بعد یا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آناچاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنےپررضا مند ہو،تونئے مہرکےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوج ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوج اول کےلئے حلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما قال اللہ تعالی:{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]۔
و فی الفتاوی الھندیۃ : و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (1/473)