میری ایک ذہنی کیفیت ہے ، میرے ذہن میں کوئی خیال آجائے تو اس پر پوری کہانی بنانے لگتاہوں ، اور اس میں اتنا غائب ہوجاتا ہوں کہ میرے سامنے کیا چل رہا ہے اس کا خیال ہی نہیں رہتا ، ایسی کیفیت میں بنا اختیار کے میں اپنا سر ہلاتا ہوں ، اپنے ہاتھ سے اشارے کرتا ہو ں ، اور جو بات ذہن میں چل رہی ہو بلا اختیار کبھی زبان پر بھی آجاتی ہے ( بنا آواز کے ہونٹ ہلتے ہیں ) ایسے میں اگر ذہن میں طلاق کا خیال چل رہاہو اور زبان پہ بلا اختیار الفاظ طلاق آجائیں تو کیا اس سے طلاق ہوتی ہے ؟
واضح ہو کہ تخیلات کی دنیا میں گم ہوکر غیر ارادی طور پر ہونٹ ہلاتے وقت اگر الفاظ طلاق ادا ہونے کا شبہ ہوجائے ، تو اس سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی ، البتہ اس طرح کیفیت سے انسان مستقل طور پر وہم اور وساوس کی بیماری کا شکار ہوسکتاہے ، اس لئے اس طرح کی کیفیت اور تخیلات کو مزید تقویت دینے کی بجائے کسی دوسرے کام میں مصروف ہوکر اُسے فی الفور ختم کرنے کی کوشش کر نی چاہیئے ۔
کما فی الدرالمختار : ادنی ( الجھر اسماع غیرہ ) و ( ادنی المخافتۃ اسماع نفسہ ) ( و یجری ذلک ) المذکور ( فی کل ما یتعلق بنطق ، کتسمیۃ علی الذبیحۃ و وجوب سجدۃ التلاوۃ و عتاق و طلاق و استثناء ) و غیرھا فلو طلق او استثنی و لم یسمع نفسہ لم یصح فی الاصح الخ ( ج 1 ص 534 – 535 کتاب الصلاۃ باب صفۃ الصلاۃ ط : ایچ ایم سعید ) و فی مراقی الفلاح : فالسماع شرط فیما یتعلق بالنطق بالسان ، التحریمۃ و القراءۃ السریۃ ( الی قولہ ) و الطلاق و استثناء و الیمین و النذر و الاسلام و الایمان حتی لو اجری الطلاق علی قلبہ و حرک لسانہ من غیر تلفظ یسمع لایقع و ان صحح الحروف الخ ( ص 198 – 199 کتاب الصلاۃ باب شروط الصلاۃ و ارکانھا ط : دارالخیر ) ۔