میرے بھائی نے بھابھی کو جھگڑے کے دوران ایک بار طلاق بول کے دی کہ”تم مجھ پر طلاق ہو “ جوکہ انہوں نے سنی ، اور ایک بار لکھ کے دی کہ” میں نے تمہیں طلاق دی“ جو انہوں نے نہیں پڑھی ،اس کے بعد تین ماہ بعد دوبارہ جھگڑا ہوا اور بھائی نے تین طلاقیں دیں ” میں نےتمہیں طلاق دی“ اور جب ابو نے پوچھا تو کہا کہ میں نے دل میں نیت کی تھی کہ میں جو بھی کہہ رہا ہو صرف ڈرانے کیلئے کہہ رہا ہوں ، تاکہ جھگڑا ختم ہوجائے اور میرے الفاظ صرف زبان سے ادا ہوئے ، میں نے دل میں انہیں تسلیم نہیں کیا ، اس پر ر وشنی ڈالیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟
نوٹ: طلاق کیلئے مذکور الفاظ استعمال کیے پہلی طلاق کے وقت کہ تم مجھ پر طلاق ہو ، دوسری طلاق کے الفاظ ” میں نے تمہیں طلاق دی “ اور پھر اکھٹے تین طلاقیں مذکور الفاظ سے دیں کہ” میں نے تمہیں طلاق دی“.
سائلہ نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائلہ کے بھائی نے پہلی دفعہ زبانی اور تحریری طلاق کے بعد دورانِِ عدت رجوع کرلیا تھا یا نہیں تا کہ اسکے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سوال میں درج کردہ بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اور سائلہ کے بھائی نے پہلی دفعہ زبانی اور تحریری طلاق کے بعد دورانِِ عدت رجوع بھی کرلیا ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ کی بھابھی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرہ:230)۔
و فی سنن ابی داؤد : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ ﷺ قال ثلٰث جدھن جد و ھزلھن جد النکاح و الطلاق و الرجعۃ اھ(1/ 305)۔
وفی الدرالمختار : و لو كتب على و جه الرسالة و الخطاب ، كأن يكتب يا فلانة : إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة. اھ(3/ 246)
و فی الهداية : ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ او ثنتيين فی الامة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها ۔ اھ (2/ 409)۔