السلام علیکم !مفتیانِ کرام میرا آپ سے سوال ٹیکس فرم میں کام کرنے سے متعلق ہے، میں جس فرم میں کام کر رہا ہوں، اس کا مالک خود فرماتے ہیں کہ کچھ کلائنٹ کا ٹیکس ۵۰ لاکھ کے قریب بنتا ہے، لیکن انکم اور پروفٹ وغیرہ کو کم ظاہر کر کے یہ ٹیکس ۵ لاکھ تک ظاہر کرتے ہیں، تا کہ ٹیکس کم دینا پڑے، اور اس کلائنٹ کی اور ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کے بندے کی آپس میں ملاقات کروا دیتے ہیں، اور وہ کلائنٹ اس بندے کو ۱۰ لاکھ دے دیتا ہے، یعنی کے رشوت، اب میں اس رشوت میں ملوث تو نہیں ہوتا، لیکن میرا دل مطمئن نہیں،کہ میں اس کام کا حصہ تو بن رہا ہوں نا،اب آپ بتائیں کہ کیا اس فرم میں کام کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اور اسلام میں مسلمان سے ٹیکس لینے کے بارے میں بھی بتائیں،جزاک اللہ خیرا۔
مذکور فرم میں سائل کی ملازمت کاتعلق اگرجائز امور کی انجام دہی سے ہو ، سائل ازخود کسی قسم کے ناجائز معاملے میں ملوّث نہ ہو توایسی صورت میں سائل کیلئے مذکور فرم میں ملازمت کی گنجائش ہے ،تاہم اگر سائل کو دلی اطمینان نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کوشکوک وشبہات سے پاک کوئی ذریعۂ آمدن تلاش کرنا چاہیئے ،اور یہ زیادہ بہتر ہے ، جبکہ کسی بھی اسلامی مملکت اورریاست کیلئے ملکی انتظامی امور چلانے ، غریب ومساکین کی امداد کرنے ، سرحدوں کی حفاظت ،تعلیمی اداروں اورسڑکوں کی تعمیر اوردیگر عوامی مفاد کےلئے ٹیکس عائد کرنے کی شرعاً اجازت ہے بشرطیکہ عائد کیاجانے والا ٹیکس لوگوں کی وسعت سے زیادہ نہ ہو اور ٹیکس کی رقم کو مملکت کے انتظامی امور میں واقعۃً صرف بھی کیا جاتا ہو اور اسے مناسب طرز وطریق سے وصول بھی کیا جاتا ہو چنانچہ ملکی وعوامی مفاد کی خاطر جو ٹیکس عائد کیا جائے تو عوام کے لئے ایسے ٹیکسوں کی ادائیگی کرنی لازم ہے ۔
کمافی الھندیہ: الخراج والجزية، وما صولح عليه بنو نجران من الحلل وبنو تغلب من الصدقة المضاعفة، وما أخذه العاشر من المستأمنين وتجار أهل الذمة كذا في السراج الوهاج. وتصرف تلك إلى عطايا المقاتلة وسد الثغور وبناء الحصون ثمة، وإلى مراصد الطريق في دار الإسلام حتى يقع الأمن عن قطع اللصوص الطرق، وإلى إصلاح القناطر والجسور، كذا في محيط السرخسي. وإلى كري الأنهار العظام التي لا ملك لأحد فيها كالجيحون والفرات ودجلة كذا في شرح الطحاوي. وإلى بناء الرباطات والمساجد وسد البثق (1) وتحصين ما يخاف عليه البثق، وإلى أرزاق الولاة، وأعوانهم والقضاة والمفتين والمحتسبين كذا في محيط السرخسي والمعلمين والمتعلمين كذا في السراج الوهاج. ويصرف إلى كل من تقلد شيئا من أمور المسلمين، وإلى ما فيه صلاح المؤمنين كذا في محيط السرخسي.(1/191)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0