السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
بعد از سلام علماءِ کرام و مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ سائل نے(اسلام الدین ولد شہاب الدین) کا اپنی بیوی(فرحانہ قمر بنت قمر الدین) کے ساتھ گھریلو ناچاقی کی وجہ سے تنگ آکر طلاق دینے کا فیصلہ کیا،سائل اسٹامپ پیپر لکھنے والے کے پاس چلا گیا اور یہ تحریر لکھوائی جو کہ ساتھ لگا دی گئی ہے،تحریر لکھاتے وقت میں نے اپنی بیوی کو فون کیا کہ آپ بھی آجاؤ تو بیوی نے کہامیں کھانا بنا رہی ہوں ،آدھے گھنٹے بعد آؤنگی لیکن وہ نہ آئی،میں نے جب تحریر لکھوا لی دستخط انگوٹھا لگا دیا ،تو جب گھر کی طرف روانہ ہو رہا تھا تو مجھے اپنی بیوی پر رحم آ گیا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دوں گا ، اور نہ اسے تحریر دوں گا ،جب میں گھر پہنچا تو بیوی نے مجھ سے پوچھا کہ طلاق نامہ لکھوا لیا ہے ؟ تو میں نے اس کو جواب دیا ہاں لکھوا دیا ہے اور یہ کہہ کر میں گھر سے باہر نکل گیا ،میں نے اس کو ابھی تک یہ تحریر نہیں دکھائی ہے اور نہ اس نے دوبارہ پوچھا ہے، اور ابھی تک میں نے اسے منہ سے طلاق بھی نہیں دی ہے۔
آپ حضرات شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ اس تحریر لکھنے سے میری بیوی کو طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر ہو گئی ہے تو کونسی طلاق واقع ہوئی ہے؟آپ حضرات کی بہت مہربانی ہو گی۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے،اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سے یا پہلے سے تحریر شدہ طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہذا سائل نے جب منسلکہ طلاق نامہ بنوا کر اس پر دستخط کر دیے ،اگرچہ زبان سے طلاق نہ دی ہو اور نہ ہی بیوی کو طلاق نامہ دیا ہو ، تب بھی سائل کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کرحرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہگار ہونگے، جبکہ سائل کی بیوی ایامِ عدت گزرنےکے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی : فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ"(سورة البقرة)۔
و فی سنن أبي داود : عن عائشة قالت : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ، عن رجل طلق امرأته - يعني ثلاثا - فتزوجت زوجا غيره ، فدخل بها ، ثم طلقها قبل أن يواقعها أتحل لزوجها الأول؟ قالت : قال النبي صلى الله عليه و سلم : «لا تحل للأول حتى تذوق عسيلة الآخر ، و يذوق عسيلته (2/ 294)۔
و فی رد المحتار :"و إن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو". اھ(3/246)۔
و فی الہندیۃ : الكتابة على نوعين مرسومة و غير مرسومة و نعني بالمرسومة أن يكون مصدرا و معنونا مثل ما يكتب إلى الغائب و غير موسومة أن لا يكون مصدرا و معنونا و هو على وجهين مستبينة و غير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة و الحائط و الأرض على وجه يمكن فهمه و قراءته و غير المستبينة ما يكتب على الهواء و الماء و شيء لا يمكن فهمه و قراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق و إن نوى و إن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع و إلا فلا و إن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق و تلزمها العدة من وقت الكتابة الخ .(1/378)۔
و فیہا ایضاً : رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها و قرأه على الزوج فأخذه و طواه و ختم و كتب في عنوانه و بعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب و أقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها . (کتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، ج: 1/ صفحہ: 379)۔
و فیہا ایضاً : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ(الی قولہ)لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایہ اھ(1/506)۔