السلام علیکم !میرے پاس گارڈز اور چوکیدار ڈیوٹی کرتے ہیں، اور وہ باہر نہیں جاسکتے ، مسجد زیادہ دور نہیں، اذان کی آواز اچھے طریقے سے آتی ہے، کیا وہ اپنی ڈیوٹی کی جگہ جماعت کراسکتے ہیں؟ اور میں ان کی امامت کر سکتا ہوں؟
سائل کو چاہیئے کہ ان کو بھی مسجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرائے، بلا وجہ ان کو مسجد کی جماعت سے روکنا درست نہیں، البتہ اگر مسجد کی جماعت میں شامل ہو نے کی وجہ سے نقصان کا خطرہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں ان کیلئے مسجد کی جماعت ترک کرنے کی گنجائش ہے، تاہم ان کو چا ہیئے کہ اسی جگہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہتمام کریں ، لیکن سائل کیلئے بلا ضرورت مسجد کی جماعت ترک کر کے ان کے ساتھ جماعت میں شامل ہونا جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار : (و الجماعة سنة مؤكدة للرجال)(الی قولہ) (و قيل واجبة و عليه العامة) أي عامة مشايخنا و به جزم في التحفة و غيرها . قال في البحر: و هو الراجح عند أهل المذهب (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج)اھ(1/554)۔
و فی الرد : تحت (قوله قال في البحر إلخ) و قال في النهر: هو أعدل الأقوال و أقواها و لذا قال في الأجناس : لا تقبل شهادته إذا تركها استخفافا و مجانة ، إما سهوا أو بتأويل اھ(1/554)۔