السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک ادارے میں مدرس ہے اور تقرر ی کے وقت زید کو بتایا گیا کہ اس کا وقت صبح 8بجے سے دوپہر 2 بجے تک ہے، لیکن چند ماہ بعد وقت تبدیل کرکے 7:45 سے 2:10 کر دیا گیا ہے اور یہ اضافی وقت بلا معاوضہ ہے ،مزید یہ کہا گیا ہے کہ 8 بجے تک زید ادارے میں پہنچ جا ئے، اگر تاخیر سے مثلاً 8بج کر 1 منٹ پر پہنچا تو 16 منٹ کی تاخیر شمار کی جائے گی اور اس کے مطابق مشاہرے میں سے کٹوتی کی جائے گی ۔ کیا ایسا کرنا حقوق العباد کی حق تلفی ہوگی یا نہیں؟ براہ کرم ازروئے شریعت مطلع فرمائیں ۔جزاکم اللہ خیرا فی الدارین !
واضح ہو کہ موسم اور حالات وغیرہ کے اعتبار سے مدارس میں چونکہ اوقاتِ ملازمت میں اس نوعیت کی معمولی تبدیلی معروف اور رائج ہے،لہذا موسمی تبدیلی کی وجہ سے دس پندرہ منٹ کی رائج اور معروف تبدیلی کو حقوق العباد کی حق تلفی سے تعبیرنہیں کیا جاسکتا،البتہ رائج اورمعروف اوقات سے زیادہ وقت کا ملازم کی اجازت ورضامندی کے بغیراضافہ کرنا جائز نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے،جبکہ ادارے کی طرف سے ملازمین کوجتنی تاخیر کی اجازت اور رعایت دی گئی ہے،اگر اس کے متعلق ادارے کا ضابطہ یہ طے ہوا ہو کہ رعایتی وقت سے ایک منٹ کی تاخیر پر رعایتی وقت کی بھی تاخیر شمار ہوگی اور اسی کے مطابق ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کی جائے گی ِ،تو چونکہ رعایتی وقت بھی ملازمت کے اوقات میں سے ہے،اس لیے رعایتی وقت سے ایک منٹ کی تاخیر کرنے پر گزشتہ پندرہ منٹ کوبھی تاخیر شمار کرکے اس کے مطابق تنخواہ سے کٹوتی کی جاسکتی ہے۔
کما فی صحيح البخاري: وقال النبي صلى الله عليه و سلم(المسلمون عند شروطهم).(2/ 794)
وفی الأشباه والنظائر لابن نجيم: المعروف عرفا كالمشروط شرعا.( 99)
وفی قواعد الفقه ـ للبركتى: 55- قاعدة إنما تعتبر العادة إذا طردت أو غلبت.( 14)واللہ اعلم
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0