کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت ہے، اسکی شادی کو 8 مہینے ہوگئے ہیں ،لیکن اس کے شوہر نے اسکو آج تک نہ محبت سے بات کی ہے،نہ خرچہ وغیرہ دیتا ہے بلکہ اسکے شوہر کے باہر اور لڑکیوں کے ساتھ تعلق بھی ہے ،ابھی کچھ دنوں سے کھانا بھی بند کیا ہوا ہے تو عورت تنگ آکر اپنے والدین کے گھرچلی گئی ہے اور شوہر کو عورت کے والدین نے سمجھایا بھی ہے، لیکن وہ کہتا ہے میں ایسا ہی کرو نگا ،تو عورت کے والدین نے اس سے طلاق طلب کر لی ہے ،اور شوہر نے جو سونا اور کپڑے دیے تھے وہ واپس کردیے ہیں ،کچھ بھی عورت نے اپنے پاس نہیں رکھا لیکن شوہر کہہ رہا ہےکہ اس وقت تک طلاق نہیں دونگا جب تک جتنا پیسہ میں نے شادی میں خرچ کیا ہے ( یعنی 60 لاکھ یا 100 لاکھ اس نے خرچ کئے ہیں دعوت اور دیگر فنکشن وغیرہ میں) یہ مجھے واپس دے دو تب طلاق دونگا ، ویسے نہیں دونگا تو اس بارے میں شریعت کیا فرماتی ہے ، تفصیل کے ساتھ جواب عطا فرمائیں ، کیا عورت کو مہر مقررہ کے علاوہ یہ پیسے بھی واپس کرنے ہیں یا نہیں ؟مہر میں جتنا سونا دیا تھا وہ واپس کردئیے ہیں اب پیسے مانگ رہے ہیں کیا ان پیسوں کا دینا بھی عورت پر لازم ہے اور ضروری ہے.
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ،تو شوہر کا مذکور طرز عمل شرعاً درست نہیں جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے ،لہذا شوہر پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز عمل سے باز آکر بیوی کے نان ونفقہ وغیرہ اور دیگر حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرے ،تاکہ طلاق اور علیحدگی تک نوبت نہ پہنچے ،لیکن اگر شوہر سمجھانے کے باوجود بھی اپنے رویے اور طرز عمل سے باز نہ آئے اور میاں بیوی کے درمیان نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں بیوی کیلئے شوہر سے طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرنا شرعاً جائز اور درست ہو گا ،چناچہ ایسی صورت حال میں شوہر کو چاہیئے کہ وہ بیوی کو لٹکا ئے رکھنے کے بجائے طلاق باالمال یا خلع کے ذریعے اسے اپنی زوجیت سے آزاد کردے ،لیکن اگر شوہر قصور وار ہو تو ایسی صورت میں اس کے لئے طلاق یا خلع کی صورت میں بیوی سے حق مہر کی واپسی یا شادی پر آنے والے اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا ناجائز عمل ہے ،جس سے شوہر کو اجتناب لازم ہے ۔
الفتاوى الهندية :إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.(1/488)۔
وفیہ ایضاً :إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان.(1/488)۔