السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرے دو سوالات ہیں، کیا ایک آڈٹ فرم میں ایک آڈیٹر کے طور پر کام کرنا جو روایتی بینکوں، انشورنس اور اسی طرح کی دیگر کمپنیوں کے آڈٹ اور اسائنمنٹس کو انجام دینا جائز ہے یا نہیں ؟ آڈٹ میں بینک، انشورنس کمپنیوں کے معاہدوں، لین دین کا جائزہ ، دوبارہ کانٹریکٹس کا حساب، جو کمپنیاں پہلے ہی سر انجام دے چکی ہیں اور آڈیٹر صرف آڈیٹنگ خدمات کو ثابت کر رہے ہیں اور بین الاقوامی آڈیٹنگ اور مالیاتی رپورٹنگ اور دیگر قوانین اور ضوابط کے مطابق معقول یقین دہانی فراہم کر رہے ہیں، اگر آڈیٹر صرف چند مہینوں کے لئے بینکوں، انشورنس کمپنیوں کے آڈٹ میں مصروف ہے اور باقی سال کے دوران دیگر کاموں میں مصروف ہے تو کیا اس کی پورے سال کی آمدنی حلال ہو جائیگی ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
سائل اگر آڈٹ فرم میں ملازمت کرتا ہو اور انشورنس کمپنیوں اور سودی بینکوں کا بیرونی آڈٹ (External Audit) کرتا ہو تو چونکہ بیرونی آڈٹ کا تعلق براہِ راست سودی لین دین اور لکھت پڑھت وغیرہ سے نہیں ہوتا، بلکہ ماضی میں کیے جانے والے سودی معاملات کی جانچ پرتال کرنی پڑتی ہے، جسے براہِ راست سودی معاملات میں تعاون نہیں کہا جا سکتا، لہذا اگر سائل کو ملازمت کے دوران سودی بینکوں وغیرہ کا بھی آڈٹ کرنا پڑے تو اس کی بھی گنجائش ہے، البتہ اگر اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
کما قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ الآیۃ(آیتـ 51 سورۃ المؤمنون)
وقال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ الآیۃ(172 بقرۃ)
وفی الدر المختار: وکل أنواع الکسب فی الإباحۃسواء علی المذھب الصحیح کما فی البزازیۃ وغیرھا اھ (ج6صـ 462 ط: سعید)
(قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل (قوله وحمل خمر ذمي)قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه - عليه الصلاة والسلام - «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره.
وفي المحيط لا يكره بيع الزنانير من النصراني والقلنسوة من المجوسي، لأن ذلك إذلال لهما وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافا أمره إنسان أن يتخذ له خفا على زي المجوس أو الفسقة أو خياطا أمره أن يتخذ له ثوبا على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس والفسقة اهـ (قوله لا عصرها لقيام المعصية بعينه) فيه منافاة ظاهرة لقوله سابقا لأن المعصية لا تقوم بعينه ط وهو مناف أيضا لما قدمناه عن الزيلعي من جواز استئجاره لعصر العنب أو قطعه، ولعل المراد هنا عصر العنب على قصد الخمرية فإن عين هذا الفعل معصية بهذا القصد، ولذا أعاد الضمير على الخمر مع أن العصر للعنب حقيقة فلا ينافي ما مر من جواز بيع العصير واستئجاره على عصر العنب هذا ما ظهر لي فتأمل اھ (کتاب الحظر والإباحۃ فصل فی البیع ج6 صـ391 ط: سعید)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0