میں ایک آرتھوپیڈک سرجن (ہڈی جوڑ اور عضلات کا سرجن) ہوں , ایک پرائیویٹ کلینک ہے جس کا بنیادی کام کاسمیٹک سرجری ( جسم کو خوبصورت بنانا بغرض علاج نہیں بلکہ بغرض خوبصورتی) کا ہے ,اس کلینک نے ایک نیا شعبہ کھولا ہے جو کہ آرتھوپیڈک کا ہے , اس شعبے کے تحت صرف وہ آپریشن ہوں گے جو کہ بغرضِ علاج ہوں گے نہ کہ بغرض خوبصورتی ,مثلا ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جوڑنا یا کسی پٹھے کا واپس جوڑنا تاکہ جوڑ صحیح طور پر کام کر سکے , مجھے بحیثیت آرتھوپیڈک سرجن کے اس ادارے میں کام کرنے پر ماہانہ تنخواہ ملے گی اور اس بات کا اختیار ہوگا کہ اپنی مرضی سے میں آپریشن کروں یعنی کسی خاص آپریشن کو کرنے پر مجھے مجبور نہیں کیا جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ تنخواہ میرے لئے حلال ہوگی کیونکہ اس ادارے کا ذریعہ آمدن بنیادی طور پر کاسمیٹکس سرجری سے ہے اگرچہ ان کے پاس ڈینٹل سرجری بھی ہوتی ہے جس میں بہت سارے آپریشن بغرضِ علاج کیے جاتے ہیں نہ کہ بغرضِ خوبصورتی تو اس ادارے کی آمدنی کا کچھ حصہ یہ بھی ہے -
وضاحت رہے کہ میرا کام کلی طور پر حلال ہے یعنی کہ میں کسی بھی ایسی سرجری میں ملوث نہیں ہوں گا جس کا تعلق جسم کی خوبصورتی بنانے سے ہو , آرتھوپیڈک کا شعبہ مکمل طور پر الگ ہے ۔ بینوا توجروا
سائل کا بنیادی کام اگر جائز اور حلال ہو ،یعنی آرتھوپیڈک سرجری ہو اور مذکور کلینک کے ذرائعِ آمدن میں یہ بھی شامل ہو تو سائل کے لئے مذکور کلینک میں ملازمت کرنا اور اس کام پر تنخواہ لینا شرعاً جائز ہے،البتہ چونکہ مذکور کلینک کا بنیادی کام ناجائز ہے اور اس کی اکثر آمدنی حرام ہے،لہذا سائل کو اگر دوسری جگہ ملازمت کا موقع ملے تو مذکور کلینک میں کام کرنے سے اجتناب بہتر ہے،تاکہ آمدن میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہو۔
کما فی التاتارخانیہ : غصب عشرۃ دنانیر ، فالقی فیھا دینارا ، ثم اعطی منہ رجلا دینارا جاز ثم دینارا آخر لا(16/509)-
و فی فقہ البیوع : و قد روی عن الامام محمد رحمہ اللہ حل الانتفاع بقدر الحلال بصراحۃ جاء فی التاتارخانیۃ عنہ : " غصب عشرۃ دنانیر ، فالقی فیھا دینارا ،ثم اعطی منہ رجلا دینارا جاز ثم دینارا آخر لا" و الحلال ھھنا اقل ، و لکنہ اجیز بقدر الحلال بدون اعتبار الغلبۃ(2/1034)-
و فیہ ایضاً : ان لم یعرف فی المخلوط من الحلال و الحرام انھما متمیزان او مختلطان ، و کم حصۃ الحلال فی المخلوط ؟ فالاولی التنزہ ، و لکن یجوز التعامل بذلک المخلوط اذا غلب علی الظن ان المتعامل بہ لا یتجاوز قدر الحلال(2/1054)-
و فیہ ایضاً : ان خلط الغاصب المال المغصوب او الحرام بمال نفسہ الحلال ، فالصحیح فی مذھب الحنفیۃ انہ یجوز لہ الانتفاع من المخلوط بقدر حصتہ فیہ ، و کذلک یجوز للآخذ منہ ھبۃً او شراء او ارثا ان ینتفع بہ بذلک القدر(5/1054)-
و فیہ ایضاً : و حکمھا انہ یسع التعامل معھا فی الغذیۃ المباحۃ بیعا و شراء و اتھابا بقدر ما فیھا من الحلال ، و ان کان لا یعرف قدر الحلال و حکمہ انہ یسع التعامل معھا ان لم یغلب علی الظن انہ فوق قدر الحلال(2/1056)-
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): [مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشترى فهو على خمسة أوجه](قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال : رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه : أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها و دفعها ، أو اشترى قبل الدفع بها و دفع غيرها ، أو اشترى مطلقا و دفع تلك الدراهم ، أو اشترى بدراهم أخر و دفع تلك الدراهم . قال أبو نصر : يطيب له و لا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول ، و إليه ذهب الفقيه أبو الليث ، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير : إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية و باعها بألفين تصدق بالرب ح. و قال الكرخي : في الوجه الأول و الثاني لا يطيب ، و في الثلاث الأخيرة يطيب ، و قال أبو بكر : لا يطيب في الكل ، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ . (5/ 235)-
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0