امامت و جماعت

پینٹ شرٹ پہنے شخص کی امامت کا حکم

فتوی نمبر :
66149
| تاریخ :
2009-12-17
عبادات / نماز / امامت و جماعت

پینٹ شرٹ پہنے شخص کی امامت کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پینٹ شرٹ کا استعمال شریعت کی رُو سے اور اس میں نماز پڑھنا اور پینٹ شرٹ بھی ادھوری یعنی بغیر آستین والی، جس میں کہنیوں تک جسم نظر آتا ہو اور ایسی پینٹ شرٹ میں نماز بھی روزانہ پڑھاتا ہو جو کہ عالم، قاری اور حافظ بھی نہ ہو تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا شریعت کی رو سے کیسا ہے؟ آیا ایسے شخص کے پیچھے نماز کراہت کے ساتھ درست ہوگی یا نہیں؟ برائے مہربانی ہماری راہ نمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پینٹ اگر اتنی چست اور کَسی ہوتی ہو کہ اسے پہننے سے اعضاء کی ساخت نمایاں ہوتی ہو تو اس کا پہننا ناجائز اور ممنوع ہے، لیکن وہ اتنی ڈھیلی ڈھالی ہو کہ اعضاء کی ساخت اور حجم نمایاں نہ ہوتا ہو اور نہ ہی پائنچے ٹخنوں سے نیچے لٹک رہے ہوں تو اس کا استعمال اگرچہ جائز ہے، مگر چونکہ یہ صلحاء کا لباس نہیں، اس لیے ناپسندیدہ ہے اور اسے پہننے سے احتراز چاہیے، جبکہ اس کے ڈھیلی ڈھالی ہونے کی صورت میں ایسے شخص کی اقتداء میں نماز اگرچہ جائز ہو جائےگی، مگر اس سے احتراز بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: والمستحب أن يصلي الرجل في ثلاثة أثواب: قميص، وإزار، وعمامة. أما لو صلى في ثوب واحد متوشحا به تجوز صلاته من غير كراهة وإن صلى في إزار واحد يجوز ويكره اھ (1/ 59)
وفی حاشية ابن عابدين: أقول: مفاده أن رؤية الثوب بحيث يصف حجم العضو ممنوعة ولو كثيفا لا ترى البشرة منه،(إلی قوله) وعلى هذا لا يحل النظر إلى عورة غيره فوق ثوب ملتزق بها يصف حجمها فيحمل ما مر على ما إذا لم يصف حجمها اھ (6/ 366)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الوحید جمال عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66149کی تصدیق کریں
0     1157
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات