مفتی صاحب! گذارش یہ ہے کہ ہمارے محلّے میں واقع مسجد کے امام صاحب نے مسجد کی دیوار پر لکھ کر لگایا کہ مغرب کی نماز اذان کے دو منٹ بعد ادا کی جائےگی اور عذر یہ پیش کیا کہ کیونکہ نمازیوں کے آنے میں وقت لگتا ہے اس وجہ سے جماعت دیرسے ہوگی۔
جناب عالی! عرض یہ ہے کہ جماعت پانچ منٹ دیر سے کروانے کی صورت میں اندیشہ ہے کہ کہیں یہ روایت نہ پڑ جائے، کیا مولوی صاحب درست ہیں یا غلط ؟ آپ سے التماس ہے کہ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں فتویٰ جاری فرمائیں، تاکہ ہم نمازی حضرات مطمئن ہو سکیں، جناب کی نوازش ہوگی۔
مغرب کی اذان اور جماعت کے درمیان دو منٹ تک کاوقفہ بلاکراہت جائز ہے، بالخصوص تکثیر جماعت کے لۓ ایسا کیا جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج بھی نہیں، تاہم بلاضرورت اس سے زیادہ وقفہ کرنا مکروہ ہے، جس سے احتراز چاہیۓ۔
فی البحر الرائق: أن الاختلاف في الأفضلية وبما تقرر علم أنه يستحب التحول للإقامة إلى غير موضع الأذان وهو متفق عليه وعلم أن تأخير المغرب قدر أداء ركعتين مكروه، وقد قدمنا عن القنية أن التأخير القليل لا يكره فيجب حمله على ما هو أقل من قدرهما إذا توسط فيهما ليتفق كلام الأصحاب اھ (۱/ ۲۷۵)۔
وفی الدر المختار: وحرر إباحة ركعتين خفيفتين قبل المغرب؛ وأقره في البحر والمصنف اھ (2/ 14)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وحرر إباحة ركعتين إلخ) فإنه ذكر أنه ذهبت طائفة إلى ندب فعلهما، وأنه أنكره كثير من السلف وأصحابنا ومالك. واستدل لذلك بما حقه أن يكتب بسواد الأحداق؛ ثم قال: والثابت بعد هذا هو نفي المندوبية، أما ثبوت الكراهة فلا إلا أن يدل دليل آخر، وما ذكر من استلزام تأخير المغرب فقد قدمنا عن القنية استثناء القليل، والركعتان لا يزيد على القليل إذا تجوز فيهما اهـ وقدمنا في مواقيت الصلاة بعض الكلام على ذلك اھ (2/ 14)۔