۱۔ آیا فقط ایک مرد وایک عورت کی نماز با جماعت گھر میں جائز ہے، جبکہ دونوں میاں بیوی ہوں ، اگر جائز ہے تو کیا اس میں نیت کی بھی کوئی قید ہے یا نہیں ؟ جبکہ نماز فرض یا سنت یا نفل ہو ، اسی طرح اگر وہ یہ معمول بنالیں یا کبھی کبھار پڑھیں تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟براہِ کرم تسلی بخش جواب دے کر ممنون فرمائیں ۔
۲۔ اسی طرح مردا پنی انفرادی فرض نماز گھر میں ادا کر رہا ہو تو کوئی محرم عورت اس کے پیچھے آ کر اس کی اقتداء میں نماز پڑھ لے تو آیا یہ طریقہ بھی درست ہے یا نہیں ؟
میاں بیوی اگر کبھی کبھار با ہم جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیا کریں کہ عورت مرد سے قدرے پیچھے ہٹ کر(ایک قدم پیچھے ) کھڑی ہو تو اس کی گنجائش ہے اور یہی حکم دیگر محرمات کا بھی ہے، مگر اسے معمول بنالینا اور مسجد کی جماعت کو ترک کر نا جائز نہیں، ورنہ جماعتِ مسجد ترک کرنے کا گناہ ہوگا ۔
في مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب فيحطب ثم آمر بالصلاة فيؤذن لها ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم أخالف إلى رجال. وفي رواية: لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم اھ (1/ 332)۔
وفي حاشية ابن عابدين: المرأة إذا صلت مع زوجها في البيت، إن كان قدمها بحذاء قدم الزوج لا تجوز صلاتهما بالجماعة، وإن كان قدماها خلف قدم الزوج (إلی قوله) جازت صلاتهما لأن العبرة للقدم؛(إلی قوله) وأنه لو اقتدت به متأخرة عنه بقدمها صحت صلاتهما اھ (1/ 572)۔
وفي الدر المختار: ولو نوى امرأة معينة أو النساء إلا هذه عملت نيته (وإلا) ينوها (فسدت صلاتها) اھ (1/ 575)۔
وفي البحر الرائق: المرأة إذا صلت مع زوجها فی البيت إن کان قدمها بحذاء قدم الزوج لاتجوز صلاتھما بالجماعة اھ (۱/۳۵۴)۔
وفی بدائع الصنائع : وإذا كان مع الامام إمرأة أقامتها خلفه لان محاذاتھا مفسدة اھ (۱/ ۱۵۹)۔