امامت و جماعت

جگہ کی تنگی کی وجہ سے مسجد میں دو جماعتیں کرانا

فتوی نمبر :
65616
| تاریخ :
2016-06-02
عبادات / نماز / امامت و جماعت

جگہ کی تنگی کی وجہ سے مسجد میں دو جماعتیں کرانا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں فیکٹری کی ایک مسجد ہے جو روڈ کے کنارے پر واقع ہے، اس میں پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے اور باہر سے لوگ آکر نماز پڑھنے پر بھی کوئی پابندی نہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں لوگوں کی زیادتی اور رش ہونے کی وجہ سے اس میں دو جماعتیں کروائی جا سکتی ہیں یا نہیں؟ براہِ کرم راہ نمائی فرما کر ممنون فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جس مسجد میں امام، مؤذّن اور نمازی متعین ہوں اور پنجگانہ نماز ہوتی ہو اس میں جماعتِ ثانیہ کرانا مکروہِ تحریمی ہے، اور صحابہ وتابعین اور اسلافِ امت کے عمل کے خلاف ہے، تاہم اگر واقعی رش کی بناء پر ایسی تنگی ہو کہ بہت سے لوگ باوجود آمد کے محض تنگی کی وجہ سے جماعت سے رہ جاتے ہوں اور کوئی دوسری متبادل جگہ میسر نہ ہو اور قریب میں کوئی دوسری مسجد بھی نہ ہو تو باَمرِ مجبوری مناسب وقفہ رکھ کر دوسری جماعت کرانے کی گنجائش ہو گی۔

مأخَذُ الفَتوی

فی اعلاء السنن: وأنا قدحفظنا ان قدفاتت رجالاً معه صلی اللہ علیه وسلم الصلاة فصلوا بعلمه منفردین وقدکانوا قادرین علی أن یجمعوا، وان قد فاتت الصلاة فی الجماعة قومًا فجاؤا المسجد، فصلی کل واحد منفرداً (إلی قوله) وإنما کرهت ذلك لهم (تکرار الجماعة فی المسجد) لأنه لیس مما فعل السلف قبلنا بل قد عابه بعضهم اھ (۴/۲۵۱)۔
وفی الدر المختار: ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن اھ (1/ 552)۔
وفی شرح المجلة: الضرورات تبیح المحظورات اھ (۱/۵۵)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65616کی تصدیق کریں
0     1780
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات