کیا فرماتے ہیں علماء کرامِ و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا گھر مسجد کے ساتھ متصل ہونے کے باوجود وہ ہمیشہ صبح کی نماز بغیر جماعت کے پڑھتا ہے جب مسجد میں نماز شروع ہوتی ہے تو اس کو گھر میں قرأت کی آواز سنائی دیتی ہے، مگروہ گھر میں بلا جماعت نماز پڑھ کر سو جاتا ہے تو کیا ایسے شخص کی نماز ہو جاتی ہے۔
۲۔ اگر یہ شخص کبھی امامت کرائے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا ایسے شخص سے قطعِ تعلق کرنا چا ہیۓ یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کو اگر شرعی عذر نہ ہو تو محض سستی و کوتاہی کی بنا پر ایسا کرنے اور مسجد کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے بہت سخت گناہ گار ہے اور اس کے مذکور فعل کی وجہ سے اس کی نماز بھی قبول نہ ہوگی، یعنی نماز پڑھنے کی وجہ سے جو اجر و ثواب ہوتا ہے وہ بھی نہ ہوگا، محض فرض ذمہ سے ساقط ہو جائےگا، اس لۓ شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ اپنے مذکور نا جائز عمل سے احتراز کرے، تاکہ بصورتِ امامت اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہو سکے۔
فی مشكاة المصابيح: وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سمع المنادي فلم يمنعه من اتباعه عذر» قالوا وما العذر؟ قال: «خوف أو مرض لم تقبل منه الصلاة التي صلى» . رواه أبو داود والدارقطني اھ (1/ 335)۔
وفی اعلاء السنن: عن عائشة مرفوعاً: لَا صلاة لجارِ المسجد إلّا فی المسجد اھ(۱/۹۶)۔
وفی الدر المختار: (والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط. وفي التراويح سنة كفاية اھ (1/ 552)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله قال الزاهدي إلخ) توفيق بين القول بالسنية والقول بالوجوب الآتي، وبيان أن المراد بهما واحد أخذا من استدلالهم بالأخبار الواردة بالوعيد الشديد بترك الجماعة. وفي النهر عن المفيد: الجماعة واجبة، وسنة لوجوبها بالسنة اهـ(1/ 552)۔