امامت و جماعت

جماعت کھڑی ہونے کے بعد مسجد کے کسی کونے میں سنتیں پڑھنا

فتوی نمبر :
65578
| تاریخ :
2004-08-02
عبادات / نماز / امامت و جماعت

جماعت کھڑی ہونے کے بعد مسجد کے کسی کونے میں سنتیں پڑھنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ میں گزشتہ ہفتے یہ بات مشہور ہوئی کہ فجر کی نماز کھڑی ہو جانے کے بعد مسجد کے اندر کسی ستون یا آڑ میں سنتیں پڑھنا جائز نہیں، بلکہ مسجد سے باہر سنتیں پڑھنی چاہئیں ، اوّل تو گھر سے پڑھ کر آ ئیں، ورنہ مسجد میں آ کرسنتیں نہ پڑھیں، بلکہ جماعت میں شامل ہو جائیں اور پھر طلوعِ آفتاب کے بعد قضا ءسنتیں پڑھیں ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم آج تک اس کے برعکس عمل کرتے رہے ہیں کہ مسجد میں آ کر کسی کونے یا ستون کی آڑ میں یا جماعت کی صفوں سے دو چار صفیں پیچھے ہٹ کر سنتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہو جاتے اور تقربیاً سارے شہر، بلکہ پورے ملک کی تمام مسجدوں میں یہ عمل جاری ہے، لہٰذا اس مسئلہ سے ہمارے علاقہ میں ایک انتشار کی فضاء پیدا ہوگئی ، فجر کی نماز کھڑی ہونے پر سنتیں پڑھنے میں اگر واقعۃً یہی مسئلہ ہے تو ہم آئند ہ اس کی پابندی کر یں اور اگر مسجد میں آ کر سنتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہونا درست ہے تو برائے مہربانی فقہ کی کتابوں کے حوالہ جات اور اگر ہو سکے تو چند احادیث جواس مسئلہ کی وضاحت کرتی ہوں تحریرفرماد یں ،تا کہ ہم اپنے لوگوں کو مطمئن کرسکیں ،نیز کسی عالمِ دین کا یہ کہنا کہ مسجد سے بہتر ہے کہ آپ باہر روڈ پر یا گلی میں کھڑے ہو کر سنتیں پڑھ لیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سنتیں فجر کی ہوں یا دوسرے اوقات کی ،ان کا گھر میں پڑھنا بہتر اور گھر کے لۓ خیروبرکت کا باعث ہے، مگر اس کا اہتمام نہ ہو سکنے کی وجہ سے مسجد میں پڑھنا بھی بلاشبہ جائز ہے ، اب یہ پڑھنا اگر جماعت کے وقت ہو تو بظاہر مخالفتِ جماعت نظر آتی ہے، اس لۓ اس وقت سنتوں میں مشغول ہونا مکروہ ہے،اگر سنت یا نفل نماز شروع کرنے کے بعد جماعت کھڑی ہوگئی تو ایسی صورت میں قدرے تفصیل ہے کہ فجر کی سنتوں کے علاوہ دیگر سنن و نوافل میں اگر پہلی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تو سلام پھیر تے ہوۓ نماز توڑ کر جماعت میں شرکت کی جاۓ ورنہ دو رکعات پوری کرکے شریک ہوا جاۓ اسی طرح اگر چار رکعت کی نیت باندھی ہو اور دو رکعات پڑھنے کے بعد ابھی تیسری رکعت کاسجدہ نہ کیا ہو تو قعدہ میں واپس آکر سلام پھیرے اور جماعت میں شریک ہوجاۓ ورنہ چار رکعت پوری کرکے شریک ہو ،جبکہ فجر کی سنتوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جماعت کی صفوں سے جتنا دور ممکن ہو سکے پڑھ لی جائیں بشرطیکہ امام کے سلام پھیرنے سے قبل اس کے ساتھ جماعت میں شرکت کی امید ہو ،اب اگر بڑی مسجد ہو جس کے کسی حصہ کے اندر ستون کی آڑ میں یا مسجد کے ساتھ برآمدہ وغیرہ ہو وہاں یا مسجد کے دروازہ کے پاس سنتیں پڑھ لی جائیں اورنمازیوں کی صفیں وہاں تک نہ پہنچتی ہوں تو یہ مکروہ نہیں ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ متعلقہ مسجد میں بھی جماعت کی صفوں سے ہٹ کر اور ستونوں وغیرہ کی اَوٹ میں سنتیں پڑھ لی جائیں تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ،اور ا س لۓ اس پرنکیر بھی درست نہیں ،نیز اگر کسی مجبوری وغیرہ کی بنا پر محض سنتیں قضاء ہو جائیں تو ان کی کوئی قضاء نہیں، ہاں! اگر فجر کی پوری نماز ( فرض ، سنت) قضاء ہو جائے تو زوال سے پہلے قضاء پڑھنے کی صورت میں ان سنتوں کو بھی پڑھ سکتے ہیں، جبکہ اس کےبعد فقط فرضوں کی ہی قضاء لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی البحر الرائق: ثم السنة في السنن أن يأتي بها في بيته أو عند باب المسجد وإن لم يمكن ففي المسجد الخارج وإن كان المسجد واحدا فخلف الإسطوانة ونحو ذلك أو في آخر المسجد بعيدا عن الصفوف في ناحية منه وتكره في موضعين الأول أن يصليها مخالطا للصف مخالفا للجماعة الثاني أن يكون خلف الصف من غير حائل بينه وبين الصف والأول أشد كراهة من الثاني اھ (۲/۸۴ ) ۔
وفي البحر الرائق: ولم تقض الاتبعاً أیْ لم تقض سنة الفجر الَّا إذا فاتت مع المرض فتقضى تبعاً للفرض سوآء قضاها مع الجماعة أو وحده ( إلى قوله ) فلو قال ولم تقض إلا تبعاً قبل الزوال لكان أولیٰ اھ (۸۴/۱)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65578کی تصدیق کریں
0     2505
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات